ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کو ختم کرانے کیلئے وزیر صحت میدان میں آگئیں

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کو ختم کرانے کیلئے وزیر صحت میدان میں آگئیں

( زاہد چوہدری ) نجکاری کے خلاف ٹیچنگ ہسپتالوں میں آوٹ ڈور کی ہڑتال ، وزیر صحت نے ہڑتال کرنے والے زیر تربیت پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کیلئے کالج آف فزیشنزاینڈ سرجنز سمیت وائس چانسلرز اور پرنسپل صاحبان سے مدد مانگ لی۔

ٹیچنگ ہسپتالوں میں نجکاری کےمتوقع قانون کے خلاف ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس کی آوٹ ڈور میں ہڑتال دس روز سے جاری ہے، ہڑتال کو ختم کرانے کیلئے وزیر صحت متحرک ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہڑتال ختم کرانے کیلئے سی پی ایس پی سمیت میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجز کے سربراہوں سے مدد مانگ لی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے صدر سی پی ایس پی پروفیسرڈاکٹر ظفر اللہ چوہدری سے ملاقات کی، اس موقع پر وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرخالد مسعود گوندل، وی سی فاطمہ جناح پروفیسرعامر زمان، پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسرعارف تجمل، پرنسپل سمز پروفیسر محمود ایاز اور پرنسپل جنرل ہسپتال پروفیسر محمد طیب بھی موجود تھے۔

اجلاس میں ہڑتال کرنے والے زیرتربیت پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے خلاف گھیرا تنگ کرنے پرغور اور سی پی ایس پی کے ذریعے پی جی ٹرینی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے مختلف ہسپتالوں میں پی جی ٹرینی ڈاکٹرز کی فہرستیں طلب کرلیں۔ ڈاکٹرز یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائےگی۔