انقلابی شاعر حبیب جالب کو ہم سے جدا ہوئے 25 برس بیت گئے


(سعید احمد سعید) غربت میں جنم لینے والے اور ساری عمر ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والی انقلابی شاعر حبیب جالب کو ہم سے جدا ہوئے 25 برس بیت گئے، مگر انکا کلام ہر کسی کو حوصلہ اور جوش و ولولہ دینے کی صورت آج زندہ ہے اور  جبر و استبداد کے سامنے ڈٹ جانے والا مزاحمت کا یہ استعارہ آج بھی معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی بھر پور ترجمانی کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے، اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔انہوں نے 15 سال کی عمر سے ہی مشقِ سخن شروع کردی تھی۔

تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا,  حبیب جالب نے 1956 میں لاہور میں رہائش اختیار کی, اس دوران انہوں نے ایوب خان اور یحیٰی خان کے دورِ آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :  گلوکار راحت فتح علی خان ایک بار پھر ایف بی آر کے ریڈار میں آگئے

حبیب جالب نے جو دیکھا اور محسوس کیا، نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس کو اپنے اشعار میں ڈھال دیا اور جو لکھا وہ زبان زدِ عام ہوگیا۔

جبر و استبداد کے سامنے مزاحمت کاایک استعارہ حبیب جالب جب قلم اٹھاتا ہے تو اقتدار کے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔ جالب آمریت کے خلاف ایک مضبوط صدا تھے، وہ مخلوق خدا پر ایک آمر کو نہیں مانتے تھے۔ وہ برملا کہتے تھے میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے۔

حبیب جالب کی شاعری آج بھی لوگوں کو حق بات پر ڈٹ جانے کا سبق دیتی ہے,  ضیا دور میں بھی جالب کا قلم آمریت کے مظالم کے باوجود چلتا رہا۔

جالب کی نظم کا یہ شعر بہت مشہور ہوا جس میں اس نے جنرل ضیا کے نام کو ذومعنی بنایا۔

صر صر کو صبا، ظلمت کو ضیا، بندے کو خدا کیا لکھنا۔

اُن کی نظموں کے پانچ مجموعے برگِ آوارہ، سرمقتل، عہدِ ستم، ذکر بہتے خون کا اور گوشے میں قفس کے شائع ہوچکے ہیں۔ حبیب جالب درباروں سے صعوبتیں اور کچے گھروں سے چاہتیں سمیٹتا 12مارچ 1993 کو 65 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے تو رخصت ہو گیا، تاہم آج بھی ان کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز ہے۔