پنجاب بجٹ کا حجم کتناہوگا؟تفصیلات سامنے آگئیں

پنجاب بجٹ کا حجم کتناہوگا؟تفصیلات سامنے آگئیں
کیپشن: Punjab Budget
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے :پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 32 کھرب 26 ارب ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ حکومت 15 فیصد ڈسپیرٹی آلاونس بھی دے گی  ۔پنشنرز کی پینشن میں وفاق کی طرز پر 5 فیصد اضافہ ہوگا ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کل پنجاب اسمبلی میں  پیش کیا جائے گا جس میں  نان ڈیولپمنٹ کے اخراجات کے لیے25 کھرب روپے سے کے فنڈ  مختص کیے جائیں گے۔سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاق کے مطابق ہی ہو گا۔

پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 124 فیصد اضافے کیساتھ 685  ارب روپے ہوگا ۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ حکومت 15 فیصد ڈسپیرٹی آلاونس بھی دے گی  ۔پنشنرز کی پینشن میں وفاق کی طرز پر 5 فیصد اضافہ ہوگا ۔ہیلتھ کارڈ کے لیے 127 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ۔طلبا کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم اور متوسط طبقے کے لیے دو سو یونٹ پر 15 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی ۔

تعلیم کی مد میں چار کھرب پندرہ ارب پچپن کروڑ کا فنڈز مختص کرنے کی سفارشات ہیں صحت کے لئے نان ڈیولپمنٹ کی مد میں  تین کھرب کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔پنجاب پولیس کے لئے ڈیڑھ کھرب کا فنڈ مختص کرنے کی سفارشات ہیں ۔عوامی ریلیف پیکج کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ایک ارب اکتیس کروڑ کا فنڈ مختص کرنے کی تجویزہے ۔

شعبہ ذراعت کے لئے اڑتیس ارب کا نان ڈویلپمنٹ فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔صوبائی محصولات کی مد میں 400 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ ہےپنجاب کےبجٹ میں124فیصد اضافی ترقیاتی بجٹ مختص کیاجائیگا۔نئے  مالی سال پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 685ارب روپے ہو گا۔لاہور  کو ترقیاتی منصوبوں پر 60 ارب روپےکےفنڈز ملیں گے۔جاری منصوبوں کیلئے3کھرب65ارب روپےمختص کیاجائے گا۔

پنجاب حکومت 2کھرب33ارب کے نئے منصوبے شروع کرے گی۔پنجاب کے آئندہ نئے مالی سال میں سکول ایجوکیشن کیلئے39ارب،ہائرایجوکیشن کیلئے13ارب50کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔صحت کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے1کھرب72ارب خرچ ہونگے۔ہیلتھ کارڈ کیلئے127ارب  روپےکا فنڈ بھی مختص کیاجارہاہے۔واٹرسپلائی اینڈ سینی ٹیشن کیلئے11ارب95روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔

سڑکوں کیلئے80ارب،اربن ڈویلپمنٹ کیلئے21ارب مختص ہوں گے ۔زراعت کیلئے14ارب روپے کاترقیاتی بجٹ رکھاجارہاہے۔نئے مالی سال کے بجٹ میں غیر ملکی قرضوں سے65.8ارب کےمنصوبے شروع ہونگے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے45 ارب کافنڈ مختص کیا جائیگا۔بجٹ میں پروڈکشن اور سروس سیکٹر پر بجٹ کم مختص کیا جائے گا

پروڈکشن سیکٹر میں 17 فیصد ،سروس سیکٹر میں 9 فیصد کٹوتی ہوگی۔سوشل سیکٹر کیلئے بجٹ میں میں 33 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔سوشل سیکٹر کیلئے 274 ارب روپے کےفنڈز مختص ہونگے۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں 11فیصد اضافہ کیا جائے گا۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 162ارب کےفنڈز مختص ہونگے۔سڑکوں کی بحالی کیلئے فنڈز میں 25 فیصد اضافہ کیا جائیگا۔سڑکوں کی بحالی کیلئے 10 ارب کا فنڈ مختص کیا جائے گا۔

خصوصی پروگراموں کیلئے بجٹ میں 74فیصد اضافہ ہوگا۔خصوصی پروگراموں کیلئے 101ارب کےفنڈز مختص ہونگے۔بجٹ میں جاری منصوبوں کو مکمل کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔