حکومت کی عدم دلچسپی، لاہور کے 463 منصوبے التواء کا شکار

حکومت کی عدم دلچسپی، لاہور کے 463 منصوبے التواء کا شکار


 (علی رامے)  پنجاب حکومت کی لاہور شہر میں عدم دلچسپی، شہر میں 39 ارب مالیت کے منظور شدہ 463 منصوبے التواء کا شکار ہیں۔ منصوبوں پر فنڈز کا اجرا ءکم ہونے سے صوبائی محکموں کی کارگردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

 پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کی اپنے پہلے مالی سال میں 6 ہزار سے زائد ترقیاتی اسکیموں پر کارگردگی 20 فیصد ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اجلاس کے دوران صوبائی محکموں کی کارگردگی پر تحفظات کا اظہار  کیا۔سٹی 42 کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق شہر میں سابق دور حکومت کے گزشتہ دو مالی سال کے 463 منصوبے فنڈز کا اجراء نہ ہونے کے باعث التواء کا شکار ہیں۔

شہر میں سکولز ایجوکیشن سیکٹر کے 54 کروڑ 43 کی 57، ہایئرایجوکیشن کی 44 کروڑ کی 6، سپیشل ایجوکیشن کی9 کروڑ کی 6، کھیلوں کی 2 ارب کی 22، ہیلتھ سیکٹر کی 10 ارب کی 31، واٹر سپلائی کی 8 ارب کی70 ، سوشل ویلفیئر میں 30 کروڑ کی 4، لوکل گورنمنٹ کی تین ارب 37 کروڑ کی 10 اور روڈ سیکٹر کی 4 ارب کی 18، آبپاشی میں 20 کروڑ کی 5، انرجی سیکٹر میں 90 کروڑ کی 12، پبلک بلڈنگ کی 2 ارب کی 90، اربن ڈویلپمنٹ میں 8 ارب کی 55، جنگلات فشریز کی 30 کروڑ کی 3، گورننس اینڈ آئی ٹی میں 80 کروڑ کی 7، ٹرانسپورٹ میں اورنج ٹرین سمیت 10  ارب کی 10، ایمرجنسی میں ایک ارب کی 11 اور ماحولیات میں 40 کروڑ کی 8 سکیمیں التواء کا شکار ہیں اور فنڈز نہیں جاری کیے جارہے۔