سانحہ مال روڈ کو دو سال بیت

سانحہ مال روڈ کو دو سال بیت

(عرفان ملک) سانحہ مال روڈ کو دو سال بیت گئے، 2017 کے خود کش دھماکے نے جہاں کئی زندگیوں کے چراغ گل کئے وہیں پولیس ڈیمپارٹمنٹ کو دو اعلی افسران سے بھی محروم کر دیا

13فروری لاہور کی تاریخ کا ایک ایسا دن جو ہمیشہ کے لئے ان مٹ اور تلخ یادیں چھوڑ گیا، 13 فروری سوموار کی ایک دل ہلا دینے والی شام تھی، پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام احتجاج جاری تھا۔ دیکھنے میں سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا، لیکن پھر اچانک سے ایک زوردار دھماکے نے سب کچھ تہس نہس کردیا، یہ زوردار دھماکہ خود کش حملہ آورنے خود کو اڑا کر کیا تھا۔

اس خود کش حملے کا ٹارگٹ عام لوگ نہیں بلکہ پولیس افسران تھے، احتجاج کرنے والوں نے جب پولیس اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا تو ڈی آئی جی ٹریفک پولیس لا ہور کیپٹن (ر) احمد مبین اور قائمقام ڈی آئی جی ز اہد گوندل احتجاج کرنے والے افراد سے مذاکرات کرتے رہے۔ مظاہرین نے مذاکرات کے نتیجے میں ایمبولینسز اور دیگر ٹریفک کو مال روڈ سے گزرنے کی اجازت دے دی، ڈی آئی جی ٹریفک دیگر پولیس اہلکاروں کے سا تھ ملکر ٹریفک کو کلیئر کرنے کے لئے مال روڈ کے درمیان سگنل کےپاس پہنچے تو ایک خود کش حملہ آورنے موقع دیکھتے ہوئے خود کو اڑا لیا۔

سلام ہے کیپٹن مبین کو جو حالات کی خرابی کے باوجود مظاہرین کے درمیان جا پہنچے اور پھر فرائض کی ادائیگی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے خود ٹریفک کھلواتے رہے۔ لاہور پولیس اب بھی مبین شہید کے عزم کو ساتھ لیے چل رہی ہے جو کہ صرف عوام کی خدمت ہے، ڈی آئی جی کیپٹن مبین اور زاہد گوندل جیسے بہادر سپوت صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ان کے شہادت سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جو خلا پیدا ہوا وہ پر ہونا ناممکن ہے۔

شازیہ بشیر

Content Writer