ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں کورونا کی وباء کے ساتھ ڈینگی بھی پھیلنے کا خدشہ

City42
کیپشن: City42
سورس: City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: بزدار حکومت کو ایک کے بعد ایک مصیبت گھیرنے لگی۔ کرونا کی وجہ سے صوبائی حکومت کے انتظامات ابھی تک مکمل نہیں ہو پائے تھے کہ ڈینگی نے بھی انٹری مار دی ہے۔ ڈینگی ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے خطرے کی گھنٹی بنجا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کورونا کی وباء کےساتھ ڈینگی بھی پھیلنے کا خدشہ بڑھنے لگا۔ درجہ حرارت میں تبدیلی اور حالیہ بارشوں سے ڈینگی بخار سر اٹھانےکو تیار ہو چکا ہے۔ ڈینگی ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے ڈینگی کیسز سے خبردار کر دیا۔

سپیشلائزہیلتھ کیئر کی جانب سے ہسپتالوں کوڈینگی کے مریضوں کیلئےاقدامات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ہسپتالوں میں ڈینگی کاونٹرز اور ہائی ڈیپنڈینسی یونٹس بھی فعال کرنے کی ہدایات جاری کر دی گءی ہیں۔

سپیشلائزہیلتھ کیئر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کنفرم ڈینگی بخار کےمریضوں کا ڈیٹا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیا جائے۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟

پاکستان اور پوری دنیا میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیِز ایجپٹی ہے۔ دھبے دار جلد والا یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں پرورش پاتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ درجۂ حرارت میں مر جاتا ہے۔

ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نر سے ملاپ کے مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔

ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف اور ساکت پانی میں ہوتی ہے جس کے لیے موافق ماحول عام گھروں کے اندر موجود ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ ملیریا اور ڈینگی میں فرق اس مرض کا مہلک ہونا ہی ہے جبکہ اس کے لیے ماسوائے احتیاطی تدابیر کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی کے مرض سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر لوگوں کی توجہ صرف گندے پانی کی جانب جاتی ہے لیکن صاف پانی بھی اس مرض کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید کہتے ہیں کہ مچھر دانیوں اور سپرے کا استعمال لازمی کرنا چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ یہ مرض ہوجائے تو اس وائرس کو جسم سے ختم ہونے میں دو سے تین ہفتوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بارش کے بعد اگر گھروں کے آس پاس یا لان، صحن وغیرہ میں پانی جمع ہو تو اسے فوراً نکال کر وہاں سپرے کرنے سے ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے۔

Shazia Bashir

Content Writer