شاہدرہ میں بیکری مالک قتل

شاہدرہ میں بیکری مالک قتل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:شہر میں لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی شہر میں ڈاکے، چوریا اور قتل جیسی وارداتیں ہورہی ہیں،شہریوں کے تحفظ کے لئے سکیورٹی ادارے ملزمان کو نکیل ڈالنے کے لئے سرگرم عمل ہیں، شاہدرہ میں ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ بیکری کے مالک کو قتل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بڑھتے ہوئے جرائم نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ملزمان دن دیہاڑے شہریوں سے لوٹ مار کررہے ہیں، مزاحمت کرنے پر بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے، ایسے ہولناک واقعات کی وجہ سے لوگ کا طرز زندگی اور کاروبار متاثر ہوکررہ گیا ہے،لاک ڈاون نے بھی اپنا حصہ شامل کیا جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ گھروں میں قید ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ جو لوگ ان دنوں کاروبارکی غرض سے گھروں سے نکلتے ہیں وہ غیر محفوظ ہیں، شہر میں ڈاکے، چوریاں بھی عراج پر ہیں، شاہدرہ میں ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر سوارڈاکووں نے حاجی عنایت سویٹ کےمالک قیصر کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

موٹرسائیکل سوار بیکری میں داخل ہوئے اور لوٹ مار شروع کردی،دوران مزاحمت بیکری کے مالک پر فائرنگ کردی جس پر بیکری مالک قیصرموقع پر ہی جاں بحق ہوگیا،واقعے کی اطلاع ملنے پر آدھا کلو میٹر دورچوکی بیگم کوٹ پولیس ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچی,ملزمان نے ماسک سے چہرے چھپا رکھےہیں اورفائرنگ کرنےکے بعد موٹرسائیکل پرفرار ہوگئے، پولیس نےقتل کی واردات کا مقدمہ درج کرلیا مگر سی سی ٹی وی کے باوجود ملزمان کا سراغ نہ لگ سکا۔

دوسری جانب پولیس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ لاک ڈاون میں جرائم کی شرخ میں کمی ہوئی ہے،رپورٹ کے مطابق  اکیس مارچ سے پانچ اپریل تک شہر کے مختلف تھانوں میں 6 ہزار3 سو 60 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ پانچ مارچ سے بیس مارچ تک شہرکے مختلف علاقوں میں 7ہزار 4 سو 26 کیسز رپورٹ ہوئے، لاک ڈاﺅن کے دوران جرائم کے ایک ہزار 66 کیسز کم رپورٹ ہوئے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق لاک ڈاﺅن کے پندرہ روز کے دوران 13 افراد کو مختلف وجوہات پر  قتل کیا گیاجبکہ پہلے پندرہ دنوں میں 18 افراد  قتل ہوئے، لاک ڈاﺅن کے دوران ڈکیتی اور راہزنی کی 124 وارداتیں ریکارڈ ہوئیں جبکہ پہلے پندرہ روز میں ڈکیتی اور راہزنی کی 164 وارداتیں ریکارڈ ہوئیں اسی طرح چوری اورنقب زنی کی 536 وارداتیں ریکارڈ ہوئیں جبکہ پہلے پندرہ روز میں چوری اورنقب زنی کی 691 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔

M .SAJID .KHAN

Content Writer