لاہور میں 2 بچوں سمیت 10 افراد نے کورونا کو شکست دیدی

لاہور میں 2 بچوں سمیت 10 افراد نے کورونا کو شکست دیدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بسام سلطان)کورونا وائرس سے پاکستان میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے، کورونا وائرس   پاکستان میں 86 افراد کی زندگیاں نگل چکا ہے، جبکہ مزید 229 کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 5036 ہو گئی ہے،اب تک  745 کورونا مریض صحتیاب ہو کر گھر چلے گئے ہیں، 45 کی حالت تشویشناک ہے۔

ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب سے کورونا وائرس کے مزید 89 کیس رپورٹ ہونے سے کنفرم مریضوں کی  تعداد 2425 ہو گئی ہے، 701 زائرین سنٹرز، 747 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 80 قیدیوں، 882 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، کورونا وائرس سے اب تک کل 21 اموات اور 39 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چلڈرن ہسپتال میں دو بچے اور میو ہسپتال کے 8 مریض کورونا کو شکست دے کر گھر لوٹ گئے، لاہور کا پہلا متاثرہ شخص سلمان بھی صحت یاب ہونیوالوں میں شامل ہے، میو ہسپتال کے 8 اور چلڈرن ہسپتال کے دو ننھے بچوں کے کورونا ٹیسٹ دو بار منفی آنے پر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

چلڈرن ہسپتال سے ڈسچارج ہونیوالوں میں 15 ماہ کی بچی اور 10 سالہ لڑکا دونوں بچے چلڈرن ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھے، دونوں بچوں کو10 دن سے زائد آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا، دونوں بچوں کے دوبارہ کورونا ٹیسٹ کروائے جو نیگیٹو آئے۔

محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں، متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ  کورونا وائرس بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے، یہ  وائرس سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں، شہری کورونا سے بچنے کے لیے ماسک استعمال کریں اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے پرہیز کریں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے تحت ملک بھر میں گزشتہ 20 روز سے لاک ڈاؤن جاری ہے ،تجارتی مراکز، شاپنگ مالز، بازار ، دکانیں بند اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں، لاک ڈاؤن کی وجہ سےسب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہورہا ہے۔

Sughra Afzal

Content Writer