ایل ڈی اے اپنےچہیتوں کوبچانے کے لیے سرگرم

ایل ڈی اے اپنےچہیتوں کوبچانے کے لیے سرگرم

سٹی42: ایل ڈی اے نے ایونیو ون کےتاخیر کے ذمہ داروں کا نیب ریفرنس روک لیا، سٹی فورٹی ٹو نےدو ماہ قبل ایل ڈی اے کی جانب سے نیب کو بھجوانے کے لئے تیار شدہ ریفرنس کی کاپی حاصل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے نےایونیو ون سکیم میں دوہزارآلاٹیوں کے استحصال کے ذمہ داروں کا تعین کیا، سابق ڈی جی ایل ڈی اے اسماعیل قریشی کوذمہ دارٹھہرایا گیا، سابق چیف میٹرو پولٹین پلانرشوکت جمال، سابق ڈائریکٹر میٹروپولٹین عبدالقیوم، اکرم پٹواری، عبدالرب، وقاص نور، غلام نبی ساجد کوبھی ذمہ دار قرار پائے۔ ایونیوون کی تاخیرکا مرکزی کرداراُس وقت کے لینڈ ایکوزیشن کلکٹرعثمان غنی کوٹھہرایا گیا، عثمان غنی اس وقت ڈائریکٹراسٹیٹ مینجمنٹ ٹو تعینات ہیں، ایل ڈی اے حکام نےعثمان غنی کوبچانےکے لئے دو ماہ سے ریفرنس ہی نہ بھجوایا۔

ایک موجودہ افسرکو بچانے کے لئے اکیس سو الاٹیوں کا استحصال کیا، پندرہ سال قبل ایل ڈی اے نے17771 کنال پر ایونیو ون پلان کی،13282 کنال ایکوائر ہوئی قبضہ صرف 12579 کنال کا لیا گیا، ایل ڈی اے نےاراضی پردو ارب سترہ کروڑ بیالیس لاکھ چوہترہزارکی خطیررقم خرچ کی۔ عثمان غنی نےگورننگ باڈی کےاحکامات کوہوا میں اڑاتے ہوئےخالی اراضی کوآبادی ظاہرکرکے ڈی نوٹیفائی کیا، گورننگ باڈی نےاس وقت اراضی ڈی نوٹیفائی کرنے پرپابندی عائد کی تھی، ذرائع کے مطابق بھاری رشوت کےعوض شہریوں کے قیمتی پلاٹوں کی اراضی ڈی نوٹیفائی کی گئی، متاثرین نے وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، واضح رہے نیب بھی معاملے پر انکوائری کررہا ہے۔

شازیہ بشیر

Content Writer