زیر زمین پانی پر ٹیکس وصولی کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

زیر زمین پانی پر ٹیکس وصولی کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس وصولی کیخلاف حکم امتناعی میں 19 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت دیگر فریقین کو دلائل کیلئے طلب کرلیا۔

 جسٹس مزمل اختر شبیر نے آل پاکستان واٹر بوٹلڈ ایسوسی ایشن سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان، اسسٹنٹ اٹارنی زرش فاطمہ سمیت دیگر افسر پیش ہوئے، اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے کہا کہ واسا کا پانی کے ٹیرف بڑھانے کا اقدام غیرقانونی ہے، سپریم کورٹ نے صوبوں کو قانون سازی کے ذریعے پانی کے ٹیرف مقرر کرنے کا حکم دیا، واسا کے ریٹ بڑھانے کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلاء سلیمان اکرم راجہ اور دیگر نے موقف اختیار کیا کہ واسا کا زیر زمین پانی پرعائد سر چارج ڈبل ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے، ٹیکس لگانے کا اختیار قانون سازی کے بعد حکومت کا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کسی صوبے کو پانی کا بل بڑھانے کا حکم موجود نہیں، ایل ڈی اے کے پاس زیر زمین پانی پر ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے کا پانی کے ٹیرف بڑھانے کا اقدام آئین کے متصادم ہے، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت واسا کی جانب سے پانی کے بل کے ٹیرف بڑھانے کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کیا تھا کہ وہ پیش کیوں نہیں ہوئے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ مستعفی ہوچکے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پرنیا ایڈووکیٹ جنرل پیش ہو کر دلائل دے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید بحث کے لئے طلب کرلیا۔