ایک مزدور کا جیل میں صحافی کو زناٹے دار تھپڑ

ایک مزدور کا جیل میں صحافی کو زناٹے دار تھپڑ

خاورنعیم ہاشمی

پاکستان میں صحافی کو سب سے ''طاقتور شخص'' تصور کیا جاتا ہے،اس شعبے میں زیادہ تر آتے ہی ایسےلوگ ہیں، جن کا مطمع نظر،طاقت اور دولت کاحصول ہوتا ہے، چاہے اس کے لئے انہیں عزت اور ضمیر سمیت کچھ بھی بیچنا پڑے، ( کسی صحافی کو مکان کرائے پر لیناہو تو لینڈ لارڈ NO کہہ دیتے ہیں، مالک مکان سمجھتے ہیں کہ صحافی کو گھر دیدیا تو اسے نکالے گا کون؟) گیارہ برس پہلے جنم لینے والے الیکٹرانک میڈیا کےکئی اینکرز تو اس سے بھی آگے نکل گئےہیں، یہ لوگ ٹی وی اسکرین پر بیٹھے بات بات پر ، اپنی اوپر تک پہنچ، دوستیوں اور تعلقات کو گردانتے رہتے ہیں ، وزیر اعظم ،وزیر اعلی کا ذکر ہو یا اپوزیشن لیڈر یا صدر کا، چیف سیکرٹری کی بات ہو یا اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کی، آئی جی ہو یا کسی محکمے یا ایجنسی کا ڈائریکٹر جنرل، سب ان کے(بقول اینکرز)'' نہایت قریبی دوست '' ہیں، کئی اینکر تو اپنی بڑی بڑی تنخواہوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے، صحافی کا خود کو قانون سے بالاتر سمجھنا بھی کوئی نئی بات نہیں، فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب ایسے ''صحافیوں'' کی تعداد بڑھ گئی ہے، کوئی صحافی موٹر سائیکل یا کار پر سڑک سے گزر رہا ہو اور کوئی ٹریفک سارجنٹ اسے روک لےتو صحافی کا پہلا جملہ ہوتا ہے.press... اگر سارجنٹ پھر بھی کاغذات چیک کرنے پر اصرار کرے تو وردی اتروانے کی دھمکی دی جاتی ہے اسے، ایک ان پڑھ تو کئی سال اپنی اس خوبی کی بناء پر میڈیا میں چھایا رہا کہ اسے بیورو کریسی کو شیشے میں اتارنے کا ہنر آتا تھا، ہر حکومت سے پلاٹ اور مالی مراعات حاصل کرنا بے شمار صحافی اپنا حق سمجھتے ہیں، کسی کا تبادلہ کرانا ہو یا رکا ہوا کوئی کام کرانا ہو، ضرورت مند لوگ صحافی تک رسائی تلاش کرتے ہیں،بہت سے صحافیوں کی تو جیبیں ہی درخواستوں سے بھری رہتی ہیں،یہ سب نیا نہیں،ہمیشہ سے چل رہا ہے،بس، انداز بدلے گئے ہیں۔۔ یہ ایک واقعہ پڑھ لیں ، آپ جان جائیں گے کہ ہر جگہ کالی بھیڑیں ہمیشہ موجود ہوتی ہیں،تحریک آزادی صحافت کے دوران ہم حیدر آباد جیل کی اس نئی بیرک میں بند تھے جو بھٹو صاحب نے اگر تلہ سازش کیس کے ملزموں کے لئے بنوائی تھی، دس پندرہ صحافیوں اور اخباری کارکنوں کے ساتھ ہماری جدوجہد کے ساتھی طالبعلم اور مزدور تنظیموں کے لوگ بھی قید تھے، ہم سب کا مشن ایک تھا، جیل انتظامیہ کی جانب سے بھی ہم سب کے ساتھ مساوی سلوک ہو رہا تھا ہاں، اگر عدم مساوات تھی تو بعض صحافیوں کی طرف سے، ایک تیز طرار، لڑاکا صحافی قیصر بٹ نے کوئٹہ سے آکر ہمارے کاز کے لئے گرفتاری دی ،وہ بھی اسی جیل میں تھا، قیصر بٹ بعد ازاں عزیز صدیقی صاحب کے انتقال کے بعد فرنٹئیر پوسٹ کا ایڈیٹر بھی بنا۔۔۔دور آمریت میں جب ہم لوگ جیل یاترا پر ہوتے تو باہر بیٹھے کئی جمہوریت پسند لوگ ہمیں ضرورت کی اشیاء بھجوا دیا کرتے تھے ، روزانہ کوئی نہ کوئی ملاقات کے لئے آتااور سگریٹ، بسکٹ، صابن, پھل وغیرہ دے جاتا، ملاقاتی سے ملنے صرف صرف قیصر بٹ ہی جاتا، بیرک واپس آتے ہوئے وہ اچھی اور مہنگی چیزیں اپنے لئے چھپا لیتا اور باقی بانٹ دیتا، وہ بلخصوص مزدور ساتھیوں کو کبھی اچھے سگریٹ دیتا نہ صابن، یعنی گولڈ لیف اور لکس اپنے لئے، کے ٹو اور لائف بوائے مزدوروں کے لئے، البتہ عبدالحمید چھاپرا جیسے لوگوں کو وہ '' پتی'' دیدیا کرتا تھا، بات آہستہ آہستہ پھیلنے لگی ، مزدور ساتھی ہم سے نالاں رہنے لگے، ایک دن کیا ہوا؟ ایک سندھی مزدور ساتھی نے معمولی سی بات پر حسان سنگرامی کو تھپڑ دے مارا، حسان سنگرامی بنگلہ دیش سے تھا اور مساوات کراچی میں کیمرہ مین تھا ، یہ سب آن کی آن میں ہو گیا، میں سمجھ گیا کہ یہ قیصر بٹ کی گندی حرکات کا رد عمل ہے، میں تھپڑ مارنے والے مزدور کو ایک کونے میں لے گیا اور اس سے کہا،، تم نے یہ زیادتی کیوں کی، جیل میں ہم سب ایک ہیں ؟ اس کا جواب کچھ یوں تھا، سائیں، ہم سب ایک نہیں ہیں، آپ لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹ ہو،اور ہم مزدور سرمایہ داروں کی فیکٹریوں کا ایندھن،اس مزدور نے مجھ سے ایک سوال کیا۔۔۔ جب وڈیروں کی بیٹیوں بیٹوں کی شادیاں ہوتی ہیں تو تم لوگ ان کی تصویریں چھاپتے ہو ناں؟ میں نے کہا ہاں،اس کا دوسرا سوال تھا، جب ہمارے بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں، ہمارے لوگ مرتے ہیں تو تم کیا کرتے ہو؟ میں کوئی جواب نہ دے سکا۔