مسلم لیگ (ن) کا اہم ترین رہنما باعزت بری

مسلم لیگ (ن) کا اہم ترین رہنما باعزت بری


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے دو کانسٹیبلوں سمیت چھ افراد کے قتل اور دہشتگردی کے مقدے میں سزائے موت کے مجرم (ن)لیگی ایم این اے عابد رضا اور ان کے تین ساتھیوں کو باعزت بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس سردار محمد شمیم خان اور جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔ عابد رضا اور ان کے ساتھیوں نے انسداد دہشتگردی عدالت گجرات کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا۔ ملزموں کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر اور احسن نے دلائل دیتے ہوئے نشاندہی کی تھی کہ اس کیس کے پورے ٹرائل میں 1998 سے لے کر آج تک دہشتگردی کی دفعات کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی جرح کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دہشتگردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا کیس ہے اور ذاتی دشمنی کی حد تک تمام فریقین میں صلح ہو چکی ہے، اس لئے ملزموں کو بری کیا جائے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر خرم خان نے بنچ کو بتایا کہ ماضی میں ہائیکورٹ نے عابد رضا کو راضی نامے کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے عابد رضا کی بریت کا ازخود نوٹس لے کر کیس دوبارہ ہائیکورٹ کو ریمانڈ کیا۔ سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کے تحت دہشتگردی کے مقدمے میں راضی نامے کی کوئی حیثیت نہیں، ہائیکورٹ سے مجرم کی بریت قتل کی دفعات کے تحت ہوئی تھی لیکن ہائیکورٹ نے مقدمے میں درج دہشتگردی دفعات سے متعلق فیصلہ نہیں سنایا تھا، اس کیس میں دو کانسٹیبل قتل ہوئے تھے لہذا دہشتگردی کی دفعات برقرار رکھ کر ملزموں کی اپیلیں خارج کی جائیں۔

 عدالتی معاون عثمان نسیم نے بتایا کہ اس کیس میں دو کانسٹیبلوں کے قتل پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں کیونکہ یہ دونوں کانسٹیبل وقوعہ کے وقت سرکاری یا آفیشل ڈیوٹی پر نہیں تھے اور اب سپریم کورٹ کی تازہ عدالتی نظیر آ چکی ہے جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر پولیس آفیشل اپنی سرکاری ڈیوٹی کے علاوہ کسی حادثے یا وقوعہ میں جاں بحق ہوتا ہے تو اس میں دہشتگردی کی دفعات لاگو نہیں کی جا سکتیں، تفصیلی دلائل سننے کے بعد دو رکنی بنچ نے لیگی ایم این اے عابد رضا اور ان کے تین ساتھیوں کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔

 واضح رہے کہ تھانہ سول لائنز گجرات میں عابد رضا کے خلاف 2 پولیس کانسٹیبلوں سمیت چھ افراد کو قتل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا اور ٹرائل عدالت نے 1999 کو عابد رضا سمیت شریک مجرمان کومجموعی طور پر چھ چھ مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔