سموگ سے لاہوریوں کا سانس لینا مشکل، مصنوعی بارش کی تیاریاں

artificial rain in Lahore
Rain

 ویب ڈیسک: شہر لاہور فضائی آلودگی میں آج بھی سر فہرست۔۔لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 600 سے بھی بڑھنے کے بعد شہر آلودگی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آگیا جبکہ لاہور پر مصنوئی بارش برسانے کی تیاریاں کر لی گئیں۔

رپورٹ کےمطابق بارشیں نہ ہونے سے فضائی آلودگی میں روز اضافہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، ماہرین کے مطابق نومبر میں سپیل خشک رہے گا۔ دسمبر میں نمی میں بڑھنے اور دھند پڑنے سے سموگ میں اضافہ ہوگا، حالیہ دنوں میں گرد نے فضا کو آلودہ ترین بنا دیا جبکہ آج بھی شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈکس 600 سے تجاوز کر گیا۔گلبرگ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 681 جبکہ رائیونڈ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 626 ریکارڈ کیا گیا۔ انارکلی بازار میں 541 جبکہ ماڈل ٹاون میں 532 ائر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ ہوا۔

ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور آلودہ شہروں میں سب سے آگے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر بھارتی شہر دہلی ہے۔ تیسرے نمبر پر کرغستان کا دارالحکومت بشکیک، چوتھے نمبر پر بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا اور پانچویں نمبر پر پاکستان کا بڑا شہر کراچی ہے۔  

ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا کہ دسمبر میں دھند اور آلودگی سے فضا مزید خراب ہوگی جبکہ سموگ کا سپیل فروری تک جانے کا امکان ہے۔ پارہ کم ہونے اور نمی بڑھنے سے دھند آلودگی کے آمیز ش سے ماحول کو خراب کرے گی۔ دوسرے جانب محکمہ ماحولیات کی جانب سےمو جودہ صورتحال کو تسلی بخش قرار دے کر عوام کے جان ومال سے کھلواڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یاد رہے شہر میں ایل ڈی اے کی تین میگاپراجیکٹس پر دن رات کام ہونے کی وجہ سے بھی  ماحولیاتی صورت حال مزید مخدوش ہوگئی ہے۔ شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور، گلاب دیوی اسپتال انڈر پاس فیروزپورروڈ اور شاہ کام روڈ بائی پاس پر ہونے والے تعمیراتی کام نے فضا کو مزید آلودہ کردیا ہے۔

دوسری طرف میٹ آفس کے حکام مصنوعی بارش برسانے کے امکانات کاجائزہ لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے معروف پروفیسر منور صابر کا کہنا ہے کہ خانس پور میں مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ کی تیاریاں کررہے ہیں، جس پر اندازا دولاکھ روپے اخراجات آئیں گے۔ تجربے کی کامیابی کی صورت میں لاہور پر مصنوعی بارش برسائی جائے گی۔