16 ہزار سے زائد پاکستانی مرد عورت بن گئے

Gender Change In Pakistan
Gender Change

ویب ڈیسک: سینیٹ میں پیش کردہ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران 28 ہزار 723 افراد نے طبی بنیاد پر جنس تبدیل کرائی۔

بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں وزارت داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق ملک میں 16 ہزار 523 مرد اپنی جنس تبدیل کرواکرعورتوں میں تبدیل ہوئے جبکہ 12 ہزار 154 خواتین جنس کی تبدیلی کے بعد مرد بن گئیں۔ پیش کردہ تفصیلات کے مطابق 9 مردوں نے خود کو ٹرانسجینڈر )خواجہ سراء( میں تبدیل کروا لیا جبکہ 21 ایسے ٹرانسجینڈر تھے جو میڈیکل پروسیجر کے ذریعے مرد بن گئے۔

گذشتہ تین برسوں میں 28 ہزار 700 سے زائد شہریوں نے نادرا کو کوائف میں تبدیلی کرکے ریکارڈ میں اپنی جنس تبدیل کرنے کی درخواستیں دی ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے تحریری جواب میں سینیٹ کو بتایا کہ جولائی 2018 سے رواں سال جون  کے دوران 12 ہزار 154عورتوں نے اپنی جنس مرد کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست کی ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں 9 شہریوں نے اپنی جنس مرد سے خواجہ سرا میں تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے جبکہ 21 افراد نے اپنی جنس خواجہ سرا سے مرد کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی درخواست کی ہے۔ نادرا کے مطابق 9 شہریوں نے اپنی جنس خواجہ سرا سے عورت کے طور پر درج کروانے کی درخواست بھی دی ہے۔

سینیٹر مشتاق نے سوال کیا تھا کہ گذشتہ تین برسوں میں کتنے شہریوں نے نادرا سے جنس کی تبدیلی کے سرٹیفیکیٹ کی درخواست دی تھی؟۔ نادرا نے اپنے جواب میں بتایا کہ نادرا جنس کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا تاہم جنس طبی وجوہات کی بنا پر ریکارڈ میں تبدیل کی جاتی ہے اور خواجہ سرا افراد کی بطور مرد یا عورت رجسٹریشن کی جاتی ہے۔ نادرا نے ان تین برسوں میں ایسے 28 ہزار 723 کیسز پر کارروائی کی ہے۔