فن سمندر ہے جس کی تہہ تک کوئی نہ پہنچ سکا، قوی خان

فن سمندر ہے جس کی تہہ تک کوئی نہ پہنچ سکا، قوی خان
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:سینئر اداکار قوی خان نے کہا کہ فنکار کسی سرحد کا قید نہیں ہوتا وہ محبتوں اور پیار کا طلبگار ہوتا ہے دنیا میں جہاں بھی اسے محبت اور پیار ملے وہاں اسے اپنے فن کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق ٹیلی ویژن ڈراموں کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی محمد قوی خان کے نام اور کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے شوبزنس کی دنیا میں ایک طویل اننگ کھیلی ہے۔ آج وہ سٹیج، ریڈیو، ٹیلی ویژن ڈراموں اور فلموں کا ایک مضبوط حصہ ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ایک بار میں اور عثمان پیرزادہ سٹیج ڈرامہ کرنے کیلئے بھارت گئے تھے جہاں ہمیں بڑی پذیرائی ملی اور اب تو ہمارے ٹی وی اداکاروں نے بالی ووڈ میں جا کر کام کیا جس پر مجھے فخر ہے۔ دوسرے ممالک میں بھی ہمارے فنکاروں کے ساتھ بے پناہ محبت کی جاتی ہے،قوی خان نے کہا کہ فن ایک ایسے گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی تہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور نہ ہی کوئی پہنچ پائے گا، میں سمجھتا ہوں کہ انسان اپنا استاد خود ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ قوی خان نئے آنے والے فن کاروں کے لئے اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں وہ ایسے منجھے ہوئے فن کار ہیں، جنہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا اور بھرپور کامیابی حاصل کی وہ فن سے وابستگی کے حوالے سے معمر ترین فن کار کا اعزاز بھی رکھتے ہیں،1964ءمیں پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے ڈرامے ”نذرانہ“ میں قوی خان نے مرکزی کردارادا کیا تھا اور اب تک وہ فن کی دنیا سے پوری توانائی کےساتھ وابستہ ہیں، محمد قوی خان کو اداکاری کا شوق بچپن سے ہی تھا، مایہ ناز فنکار نے زمانہ طالب علمی میں سکول اور کالج میں ہونے والے ڈراموں میں حصہ لینا شروع کیا، بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے بچوں کے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے، اسی دوران انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے ڈراموں میں چائلڈ سٹار کی حیثیت سے حصہ لینا شروع کردیا اور  اداکاری کا یہ شوقیہ سفر پختگی کی جانب رواں دواں ہوگیا۔