نواز شریف کو جیل میں دیکھ کر دکھ ہوا: بلاول بھٹو


( سٹی 42 ) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ  میاں نواز شریف  کے جیل میں ہونے کا بڑا دکھ ہے، مریم نواز سے ملاقات کا عندیہ بھی دے دیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد  پیپلز پارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دل کے مریض کو  ذہنی دباؤ میں رکھنا ایک قسم کا تشدد ہے،میاں صاحب کی حالت ٹھیک نہیں ہے،  میاں نواز شریف  کو صحت کیلئے بہترین سہولیات دی جائیں،ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے کو جیل میں دیکھ کر دکھ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ میرے لیے تاریخی دن ہے کہ میں اس جیل میں آیا جس میں سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار بھٹو،سابق صدر آصف زرداری یہاں قید رہے ہیں،ہم تمام جماعتوں میں سیاسی اتفاق چاہتے ہیں،ایک کوڈ آف کنڈکٹ کی ضرورت ہے،میں نے صحت کے علاوہ ان سے چارٹر آف ڈیموکریسی کی بات ہوئی ہے، میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرنا ہماری ناکامی ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ میاں صاحب اب نظریاتی ہوگئے ہیں اور وہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں،مجھے لگتا ہے وہ کوئی ڈیل نہیں کرینگے۔میرے والد آصف زرداری بھی ڈیل کے ذریعے رہا نہیں ہوئے تھے،انہوں نے بھی 11سال جیل میں گزارے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ملکی معاملات پر حکومت کے ساتھ چلنے پر تیار ہیں،میری انگلش کی تقریر کو ایشو بنایا جارہا ہے،ہمار ا پڑھا لکھا جاہل وزیر اسد عمر کو اس پر تکلیف ہوئی ،شاہ محمود نے مجھ سے زیادہ انگلش میں جواب دیا،وہ ایک سمجھ دار اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔پتا نہیں اسد عمر نے مجھ پر تنقید کی ہے یا شاہ محمود پر ، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پارلیمان میں تمام جماعتوں سے بات کرنے کو تیار ہیں،پاک بھارت کشیدگی پر سب متحد ہیں،ن لیگ کی قیادت سے رابطہ ہوتا رہتا ہے، مریم نواز سے بھی ملاقات ہوسکتی ہے،میں نہیں سمجھتا مریم خاموش ہیں ان کے وقتاً فوقتاً بیانات آتے رہتے ہیں۔وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گی،امید ہے ن لیگ نظریاتی سیاست کرے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی وفد کے ہمراہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے، اس موقع پر جیل کے اطراف سیکیورٹی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔بلاول کے ہمراہ قمر زمان کائرہ ، جمیل سومرو، مصطفیٰ نواز کھوکھر، علی قاسم گیلانی اور سید حسن مرتضیٰ ہمراہ تھے۔

واضح رہےکہ بلاول بھٹو کی جانب سے ہفتے کو محکمہ داخلہ کو درخواست دی گئی تھی جس میں نوازشریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت طلب کی گئی تھی اور اجازت ملنے کی صورت میں قمر زمان کائرہ ، جمیل سومرو اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کے نام بلاول کے ساتھ ملاقاتیوں میں شامل تھے تاہم بعد میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مزید دو رہنماؤں کو ملاقاتیوں میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی جسے پنجاب حکومت نے منظور کرلیا۔