تعلیمی اداروں کی حدود میں منشیات کے استعمال پر عدالت کا اظہار برہمی

تعلیمی اداروں کی حدود میں منشیات کے استعمال پر عدالت کا اظہار برہمی


( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے تعلیمی اداروں کی حدود میں منشیات و سگریٹ نوشی کے استعمال پر برہم، انہوں نے کہا کہ معاملہ انتہائی اہم اور سنجیدہ ہے، نئی نسل کو منشیات سے بچانے کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔

جسٹس جواد حسن نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی جس میں سگریٹ نوشی روکنے اور طلبا کے بلڈ و یورن ٹیسٹ کرانے کیلئے متفرق درخواست دائر کی گئی تھی، عدالت نے درخواست گزار وکیل اظہر صدیق کے دلائل سننے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

 عدالت نے وفاق اور پنجاب کے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ مجاز اتھارٹی سے ہدایات لے کر آئندہ سماعت پر جواب دیں کہ تعلیمی اداروں میں منشیات اور سگریٹ نوشی روکنے کے لئے اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کی حدود میں سگریٹ نوشی وفروخت سے منع کررکھا ہے، عدالت نے طلبا کے بلڈ و یورن ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ دے رکھا ہے، عدالت کے حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔