موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کا ذمہ دار کون؟

موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کا ذمہ دار کون؟

( علی ساہی ) نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی غفلت سے موٹروے پر خاتون درندگی کاشکار ہوگئی، لاہورسیالکوٹ موٹروے کو آپریشنل ہوئے 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن تاحال سڑک کا کنٹرول موٹروے پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا۔ پولیس کی عدم موجودگی سےسکیورٹی اور پٹرولنگ نہ ہونے سے ایمرجنسی کی صورت شہری بے یارومددگار ہوگئے۔

لاہور سے سیالکوٹ موٹروے کا وزیراعلی نے 6 ماہ قبل افتتاح کیا تھا اور ٹریفک کھولنے کی اجازت دی تھی لیکن سکیورٹی پٹرولنگ اور ٹریفک کنٹرول کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی متعلقہ محکمے کے حوالے کرنا بھول گئی۔ متعلقہ سڑک پر خاتون کیساتھ زیادتی اور ڈکیتی کے واقعہ سامنے آنے پر تمام ادارے متحرک ہوگئے ہیں لیکن ابھی نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی جانب سے کوئی موثر اقدام نہیں کیا گیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گاڑی خراب ہونے ایکسیڈنٹ یا دیگر ایمرجنسی کی صورت میں اپنی مدد آپ کے تحت مسائل حل کرتے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی جانب سے آئی جی پنجاب کو مراسلہ بھجوایا گیا تھا کہ پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کونگرانی اور ٹریفک کنٹرول کے لیے تعینات کیا جائے۔

پر سابق آئی جی نے گاڑیوں، سپیڈ کیمرے، فرنیچر سمیت دیگر ضروری سامان مہیا کرنے کا مراسلہ بھجوایا تھا جس کاتاحال جواب نہیں آیا۔ خاتون کیساتھ درندگی کی گھناؤنی واردات کے بعد بھی اگر ادارے متحرک نہ ہوئے تو شہریوں کی جان ومال موٹروے پر غیرمحفوظ ہوگی۔