اینٹی کرپشن پنجاب کی محکمہ لیبر میں بڑی کارروائی

اینٹی کرپشن پنجاب کی محکمہ لیبر میں بڑی کارروائی

قیصر کھوکھر: اینٹی کرپشن پنجاب کی محکمہ لیبر میں بڑی کارروائی، پنجاب ورکرز ویلفیر بورڈ محکمہ لیبر و ہیومن ریسورس میں کروڑوں روپے کی کرپشن بے نقاب، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس کی ہدایت اینٹی کرپشن لاہور کا چھاپہ۔

ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن گوہر نفیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ترجمان ڈائریکٹر فنانس شہزاد اختر بیگBS-19، اعجاز الرحمن ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن BS-18 اور طاہر مسعود اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر BS-17کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ملزموں نے گھوسٹ سکول بنا کر سرکاری خزانے سے 5 کروڑ 14 لاکھ اور 30 ہزار روپے خرد برد کئے۔ مڈ سٹی کالج کے نام پر 32 کروڑ 97 لاکھ 8 ہزار 400 روپے نکالے گئے۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس کے نام پر 70 لاکھ 31 ہزار 200روپے نکالے گئے۔ 

گوہر نفیس نے مزید کہا کہ حمزہ پولی ٹیک کے نام پر 60 لاکھ 40 ہزار نکالے گئے۔  گریس کالج کے نام پر 48 لاکھ 39 ہزار 800 روپے نکالے گئے۔ سی ایف ای کے نام پر 5 لاکھ 49 ہزار 600 روپے نکالے گئے۔

ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس نے بتایا کہ سرکاری خزانے سے یہ کروڑوں روپے جعلی اداروں کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے گئے جن کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ گھوسٹ اداروں کو ادا ہونے والے یہ کروڑوں روپے کے بل پنجاب ورکرز ویلفیر بورڈ کے کمپیوٹر سیل میں پراسیس ہوتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپیوٹر سیل کے انچارج اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر طاہر مسعود نے جونیئر کلرکوں جمشید اور سلیم کی ساتھ ملکر گھوسٹ کالج کے مالکوں کو فائدہ پہنچایا۔ ڈائریکٹر فنانس شہزاد اختر بیگ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اعجاز الرحمن نے چیکوں پر دستخط کر کے تمام بل پاس کئے۔

اپنے بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ تمام ملزمان اینٹی کرپشن کی حراست میں ہیں اور گھوسٹ کالج سکینڈل پر مزید تفتیش جاری ہے۔ معاملے کی مکمل چھان بین کے بعد ملزمان کے خلاف قانون کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

گوہر نفیس نے عزم کا اظہار کیا کہ ملزموں سے سرکاری خزانے کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔ غریب مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کےلئے مختص کرپشن کی نظر ہونے ولی تمام رقم ملزموں سے وصول کریں گے۔