سموگ کا خدشہ، محکمہ داخلہ پنجاب کا نئی پابندی لگانے کا فیصلہ

سموگ کا خدشہ، محکمہ داخلہ پنجاب کا نئی پابندی لگانے کا فیصلہ

(قیصر کھوکھر) محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سموگ کے خدشات کے پیش نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھرمیں فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کی پابندی پر سختی سے عملدرآمدیقینی بنائیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ  پنجاب نے اس حوالے سے جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے، نوٹیفکیشن میں ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی جائے گی کہ فصلوں کی باقیات پر نظر رکھیں اور کسی کو فصلوں کی باقیات جلانے کی اجازت نہ دیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر سموگ کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات نے مانیٹرنگ ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں، ٹیمیں سیمنٹ کے پلانٹس اور پتھروں کی کوٹائی سے پھیلنے والی فضائی آلودگی کا جائزہ لیں گی ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو تجاویز اور متوقع اقدامات کی رپورٹ بھی بھجوا دی گئی، تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سیمنٹ پلانٹس کی رہائشی آبادیوں سے دور تنصیب، بھٹوں کی جدید ٹیکنالوجی پر منتقلی اور انڈسٹریل یونٹس میں ماحول دوست ایندھن کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، محکمہ تحفظ ماحول کے تحت تمام اضلاع میں آگاہی مہمات دوبارہ چلائی جائیں۔

واضح رہےکہ سموگ دھوئے اور دھند کے مرکب کو کہا جاتا ہے جب یہ اجزا ملتے ہیں تو سموگ پیدا ہوتی ہے۔ اس دھویں میں کاربن مونو آکسائید، نائڑوجن آکسائیڈ میتھن جیسے زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں،گلے میں خراش ہونا، ناک اور آنکھوں میں چھبن کا احساس ہونا انسانی جسم پر سموگ کا پہلا اٹیک ہے،جبکہ ایسے لوگ جو سینے پھیپھڑے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ان کے لیے سموگ مزید بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے،سموگ سے پودوں کی افزائش کو بھی نقصان کے ساتھ ساتھ فصلوں اور جنگلات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتی ہے۔