محسن پاکستان، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے

(مانیٹرنگ ڈیسک) محسن پاکستان اور نامور  ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 86 برس کی عمر میں  انتقال کر گئے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صبح 6 بجے کے قریب  پھیپھڑوں کے مرض کے سبب کے آر ایل ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کی طبیعت مزید خراب ہو گئی، ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے انہیں بچانے کی پوری کوشش کی تاہم صبح 7 بج کر 4 منٹ پر وہ دار فانی سے کوچ کر گئے، ڈاکٹر عبدالقدیر کی وصیت کے مطابق انکی  نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی۔ 

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ محسن پاکستان کی طبیعت کچھ عرصے سے ناساز تھی۔ معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر ہر دل افسردہ ہے، انہوں نے عملی طور پر پاکستان کو دفاعی طاقت بنایا۔

واضح رہےکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 میں  بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور  تقسیم ہند کے بعد 1947 میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے، ڈاکٹرعبدالقدیرنے انجینئرنگ کی ڈگری 1967 میں نیدرلینڈز کی ایک یونیورسٹی سے حاصل کی، انہوں نے بیلجیئم کی ایک یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، بعدازاں انہوں نے ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔

مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا، جس کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دوبار نشان امتیاز  بھی دیا گیا، اس کے علاوہ انہیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔