’’حکومت اپوزیشن کو دیوار کیساتھ لگانا چاہتی ہے‘‘


( حسن خالد ) مسلم لیگ ( ن) کی صوبائی قیادت کا اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر تمام سٹینڈنگ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفے دینے کا فیصلہ، عظمی بخاری کہتی ہیں کہ ایسی کمیٹیوں کا کیا کرنا جس میں کوئی پالیسی مرتب نہ ہوسکے، حکومت اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ ( ن) کے سیکرٹریٹ میں صوبائی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رانا محمد اقبال کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں رانا مشہود احمد، عظمی بخاری، عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر ایم پی ایز نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمی بخاری نے حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کے تیر برسائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورا ملک آرڈیننس پر چلایا جارہا ہے، پنجاب اسمبلی میں عمران خان کا اثر رسوخ ہے، ان کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا، اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کررہی ہے مگر نااہل حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن سڑکوں پر آئے۔

عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس لیے حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جارہے، آئندہ اجلاس میں تمام قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہو کر کوٹ لکھپت جیل کے باہر احتجاجی اجلاس بلائیں گے۔

شریف برادران میں اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو ہمیشہ کی طرح اب بھی منہ کی کھانے پڑے گی۔ مسلم لیگ ( ن) نے فضل الرحمان کے مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ نااہل حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔