سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی پھانسیوں کا ڈیٹا جاری کردیا گیا

سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی پھانسیوں کا ڈیٹا جاری کردیا گیا


علی ساہی: محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے 4 سال میں دی جانے والی پھانسیوں کا ڈیٹا جاری کردیا، 2015 سے لے کر 2018 تک 423 خطرناک مجرمان کوتختہ دار پرلٹکا دیا گیا، جیل خانہ جات نے رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھجوادی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوزہیڈلائنز12بجے17دسمبر2018

محکمہ جیل خانہ جات نے پھانسیوں کی تفصیلات محکمہ داخلہ اور آئی جی پنجاب کو بھجوادیں ہیں۔ 4 سال کے دوران خطرناک دہشت گردوں، قتل سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث مجرمان میں سے لاہور سنٹرل جیل میں 59، سنٹرل جیل راوالپنڈی میں 49، سنٹرل جیل فیصل آباد میں 41، سنٹرل جیل بہاولپور35، سنٹرل جیل ساہیوال 30، ملتان جیل میں 28، ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں 22 مجرمون کو پھانسی دی گئی۔

سال 2015 میں 309 مجرمان کو پھانسی کی سزادی گئی، سنٹرل جیل لاہورمیں 38، فیصل آباد میں 30، راولپنڈی میں 37 مجرمان کی سزائے موت پرعملدرآمد کروایا گیا۔ سال 2016 میں 82 مجرمان کوپھانسی دی گئی، لاہورمیں 18، راولپنڈی میں 10،  میانوالی اور فیصل آباد میں 5، 5 پھانسیاں ہوئیں۔

 سال2017 میں 24 مجرموں کوپھانسی دی گئی، لاہور میں 2، ساہیوال 5، سرگودھا اور فیصل آباد میں 3، 3 قیدی پھانسی چڑھے۔ جب کہ سال 2018 میں اب تک صرف 8 مجرموں کوپھانسی دی گئی جس میں 2 فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اوراٹک میں 1، 1 مجرم کو پھانسی کے گھاٹ اتارا گیا۔