ادویہ کے بعد سرنجوں کی قلت 

syringes shortage
syriinges

 ویب ڈیسک : ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے وارننگ دی ہے کہ 2022 میں کورونا ویکسین کے لیے درکار اربوں سرنجوں کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

 اس وقت کرونا وبا کی ویکسین لگانے اور بچوں کی امیونائزیشن کے لیے اربوں سرنجیں  چاہئیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سن 2022ء میں قریب دو بلین سرنجیں اقوام عالم کو درکار ہوں گی اور عالمی سطح پر ان کی قلت پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ قلت پیدا ہونے کی صورت میں امیونائزیشن اور ویکسینیشن کے عالمی پروگرام متاثر ہو سکتے ہیں۔

 ترقی پذیرممالک میں سرنجوں کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔ ویکسین بنانے والوں کے ساتھ ساتھ سرنجیں بنانے والی کمپنیوں کو بھی بھاری منافع حاصل ہو رہا ہے  ۔ یادرہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کورونا وبا  کےدوران  ادویات کی قیمیتوں میں اندھا دھن اضافہ کردیا تھا جبکہ اکثر معمولی ادویہ جیسے کہ پینا ڈول وغیرہ کی مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام سے ان ادویہ ، ماسک اور جراثیم کش محلول وغیرہ کی بھی منہ مانگی قیمتیں وصول کی گئی تھیں ۔