سرکاری عمارتوں کی آتشزدگی کی جوڈیشل انکوائری التوا کا شکار

سرکاری عمارتوں کی آتشزدگی کی جوڈیشل انکوائری التوا کا شکار

شاہین عتیق: دس سال کے دوران سرکاری عمارتوں کو لگنے والی آگ اور جلنے والے ریکارڈ کی جوڈیشل انکوائری کرنیوالے ٹربیونل سے رجسٹرار واپس لینے پر عدالت برہم۔

 عدالت نے ہوم سیکرٹری کو فوری ٹربیونل میں رجسٹرار مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے، حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں دس سالوں کے دوران لگنے والی آگ اور اس سے جلنے والے ریکارڈ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج محمد اختر بھنگو پر مشتمل ون مین ٹربیونل بنایا ہے جس نے انکوائری شروع کی۔

 عدالت نے ایل ڈی اے پلازا میں جل کر مرنے والے افراد کے لواحقین کی تفصیلات طلب کیں اور ان کے بیان قلمبد کیے، عدالت میں یہ انکوائری 2018ء میں شروع کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے ٹربیونل کو سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے انکوائری جوں کی توں ہے۔

 عدالت میں ایک رجسٹرار مقرر تھا انہیں بھی واپس بلا لیا گیا، ٹربیونل کے جج محمد اختر بھنگو نے ہوم سیکرٹری کو مراسلہ لکھا ہے کہ عدالت میں فوری رجسٹرار مقرر کیا جائے، عدالت میں رجسٹرار کے نہ ہونے کی وجہ سے سارا کام التوا کا شکار ہے۔

 عدالت نے دوسرا مراسلہ ایل ڈی اے کے ڈی جی کو لکھا ہے جس میں ایل ڈی اے پلازے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

Shazia Bashir

Content Writer