دعا زہرہ مبینہ اغوا کیس میں اہم پیشرفت

دعا زہرہ مبینہ اغوا کیس میں اہم پیشرفت
کیپشن: Dua Zahra
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کے مبینہ اغوا،کم عمری میں شادی کیس میں محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں دعا زہرہ کے مبینہ اغوا،کم عمری میں شادی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی،درخواست دعا کے والد کی جانب سے دائر کی گئی۔

سماعت کے آغاز پر والدین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دعا کی والدین سےملاقات ہو، جس پر جسٹس محمداقبال کلہوڑو نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی عدالت میں بیان دے چکی اس موقع پر جسٹس آغا فیصل نے وکیل سے استفسار کیا کہ لڑکی کا بیان اور ریکارڈ آپ کیوں پیش نہیں کررہے؟۔

وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں دعا زہرہ کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، ہمیں کچھ نہیں بتایاجارہا صرف سوشل میڈیا سے معلومات مل رہی ہیں۔اس موقع پر دعا زہرہ کےوالد نے عدالت کو بتایا کہ میری بیٹی کو اغوا کیا گیا اور زبردستی نکاح کرایا گیا، ظہیراحمد کےخلاف اغوا کا مقدمہ درج ہے،حقائق جاننےکےلیےبیٹی کو عدالت میں لایاجائے اور بیان قلمبند کیا جائے، میری استدعا ہے کہ پولیس حکام کو بیٹی کو عدالت لانےکی ہدایت دی جائے۔

والد کی استدعا پر سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ سمیت ایس ایس پی شرقی،ایس ایچ او تھانہ الفلاح ظہیراحمد سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 19مئی تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کراچی کے علاقے الفلاح سے اغوا ہونے والی دعا زہرہ کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب اس نے لاہور کے رہائشی ظہیر احمد سے نکاح کیا تھا، اس معاملے نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچائے رکھا تھا۔