ایل ڈی اے گورننگ باڈی کے اجلاس میں کمشنر لاہور پھٹ پڑے

ایل ڈی اے گورننگ باڈی کے اجلاس میں کمشنر لاہور پھٹ پڑے

(درنایاب) ایل ڈی اے گورننگ باڈی کے اجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، گورننگ باڈی کے ممبران نے ترقیاتی بجٹ کے استعمال نہ ہونے پر کئی سوال اُٹھا دیئے۔

 گورننگ باڈی کے ممبران نے ساڑھے 4 ارب کے ڈویلپمنٹ فنڈز استعمال نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، ایل ڈی اے میں تقرروتبادلوں پر پابندی جبکہ ایچ آر کمیٹی کو بااختیار بنا دیا گیا، گورننگ باڈی کے اجلاس میں ڈی جی ایل ڈی اے کو ممبران کی جانب سے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

 ممبران نے شکوہ کیا کہ شہری ترقیاتی کام نہ ہونے پر بلبلا رہے ہیں، ایل ڈی اے ہاتھ دھرے بیٹھا ہے، گورننگ باڈی ارکان نے مطالبہ کیا کہ ڈویلپمنٹ فنڈ بلا تاخیر خرچ کیے جائیں۔

 ذرائع کے مطابق گورننگ باڈی میں سیکرٹری ہاﺅسنگ اور ڈی جی ایل ڈی اے کا تنازع بھی زیر بحث آیا، ڈی جی ایل ڈی اے 5 افسران کو ڈائریکٹر سے ڈپٹی ڈائریکٹر بنانے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر بھی نشانے پر رہیں۔

 آئندہ ٹرانسفر پوسٹنگ جیسے اہم امور گورننگ باڈی کی ایچ آر کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ، گورننگ باڈی کی ایچ آر کمیٹی کی سربراہی ممبر میجر( ر) سید برہان اعظم کریں گے، ایل ڈی اے میں ایک ماہ کے لئے تقررو تبادلوں پر پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا، گورننگ باڈی کی اجازت کے بعد اہم تبادلے کیے جاسکیں گے۔

 ذرائع کے مطابق کمشنر لاہور بطور اپیلنٹ اتھارٹی اپنے فیصلوں پر ایل ڈی اے میں عملدرآمد نہ ہونے پر برہم ہوئے۔کمشنر نے کہا کہ ان کے فیصلوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، ایل ڈی اے میں صرف پیسہ چلتا ہے کام اس کے بغیر نہیں ہوتا۔

 کمشنر نے اجلاس میں برملا اظہار کیا کہ میرٹ پر دیئے گئے فیصلوں پر ڈی جی عملدر آمد نہیں کرواتی، کمشنر نے کہا کہ اگر فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرنا ہوتا تو ایپلنٹ اتھارٹی تبدیل کروالیں۔

گورننگ باڈی کا ون ونڈو سیل کی کارکردگی کی بھی جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، گورننگ باڈی کا آئندہ اجلاس میں کمرشلائزیشن پالیسی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔