میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت مسترد، تحریری فیصلہ جاری

میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت مسترد، تحریری فیصلہ جاری

( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ و جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کر نے کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 08 جولائی کو میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی تھی۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے 19 صفحات پر مشتمل درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی اور غیر قانونی ذرائع سے ایگزمپشن پر پلاٹ حاصل کئے۔ ملزم میر شکیل نے شریک ملزمان سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف، ہمایوں فیض رسول اور میاں بشیر کی ملی بھگت سے غیر قانونی پلاٹ حاصل کئے۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی غیر قانونی ذرائع سے حاصل پلاٹوں میں دو سڑکوں کو بھی غیر قانونی طور پر شامل کیا۔ ملزم میر شکیل نے غیر قانونی پلاٹ حاصل کرکے نیب کے آرڈینس کی دفعہ 9 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ وائٹ کالر کرائمز کیسز میں جرم مکمل کرنے کے بعد دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وائٹ کالر کرائمز میں چند تکنیکی یا اندرونی معلومات کی بنیاد پر ہی ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، وائٹ کالر کرائمز میں اخلاقیات کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ، ایسے جرائم پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ ملزم میر شکیل نے دوران تفتیش نیب کے 143 ملین روپے کے نقصان پہنچانے کے الزام کے جواب میں جمع کروائی گئی رقم کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا۔ نیب کے الزامات کے جواب میں رقم جمع کروانے کا ثبوت نہ دینا ملزم میر شکیل کا جرم سے مضبوط گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے۔ عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ سپریم کورٹ کے امتیاز بنام سرکار اور ڈاکٹر مبشر حسن کیسز میں پاکستان میں جاری کرپشن پر سخت آبززویشنز دی گئی ہیں، وائٹ کالر کرائمز میں ملوث ملزموں کو ضمانت کی سطح پر بھی کسی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کرپشن کیسز میں ایسے ملزموں کو ملزموں کو رعایت دینے سے بڑھتے ہوئے کرپشن کے کینسر کو ختم کرنا ناممکن ہوگا، ملزم میر شکیل کے وکیل کے دلائل میں دیئے گئے کیسز کے حوالے موجودہ کیس کے حالات و واقعات پر پورا نہیں اترتے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم نے جوہر ٹاﺅن میں زمین پر عبوری تعمیر کی درخواست دی تھی مگر میر شکیل کو ایگزمپشن پر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے۔ ملزم میر شکیل نے پلاٹوں کی ایگزمپشن کی شرائط پر رضا مندی ظاہر کی اور شریک ملزموں نے اس کی سمری تیار کی۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ شریک ملزموں نے پلاٹوں میں دو سڑکیں بھی شامل کیں اور اسی روز 11 جولائی 1986 ء کو سمری اس وقت کے وزیر اعلی نواز شریف کو پیش بھی کر دی جبکہ ڈائریکٹر لینڈ میاں بشیر احمد نے 59 کنال 3 مرلے 75 فٹ اراضی میر شکیل کو الاٹ کرنے کی سمری تیار کی اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے 56 کنال الاٹمنٹ کی منظوری دی۔ عدالت نے کہا کہ ملزم میر شکیل کو 3 کنال مزید زمین الاٹ کرکے مزید غیر قانونی کام کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایل ڈی کے ہمایوں فیض رسول نے میر شکیل کو زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ اس رعایت کو مثال نہ بنایا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ ملزم میر شکیل نے زمین کی مارکیٹ ویلیو کے تحت قیمت آج تک ادا نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ ملزم میر شکیل تقریبا 60 کنال اراضی پر صرف ریزرو پرائس ادا کرنے کے بعد قابض ہے، ملزم میر شکیل کو جوہر ٹاﺅن میں 54 پلاٹ ایک بلاک کی شکل میں الاٹ کرنے کا اقدام بھی بدنیتی پر مبنی تھا۔

 تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ میر شکیل کو بشمول 2 سڑکوں کے ایک بلاک کی شکل میں پلاٹ الاٹ کر کے ملزم کو فائدہ پہنچایا گیا اور انتہائی سستے داموں پلاٹ حاصل کرنے کا فائدہ صرف میر شکیل کو ہوا جبکہ میر شکیل کے پلاٹوں میں 2 سڑکیں شامل کرکے عوام الناس کو سڑک کے استعمال سے محروم کیا گیا، لہذا ملزم میر شکیل کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست بے بنیاد قرار دے کر مسترد کی جاتی ہے۔