مرگی سے بچاؤ کے عالمی دن پر آگاہی واک کا اہتمام

مرگی سے بچاؤ کے عالمی دن پر آگاہی واک کا اہتمام

(زاہد چوہدری) مرگی سے بچاؤ کا عالمی دن کے موقع پر   چلڈرن ہسپتال میں سیمینار اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک فیصد آبادی مرگی کے عارضہ میں مبتلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرگی سے آگاہی کا عالمی دن پیر کو منایا گیا،اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پرعوام الناس میں مرگی کے مرض سے آگاہی، اس کے علاج اور بچاؤکے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا، ماہرین کے مطابق مرگی ایک دماغی بیماری ہے جو دماغ میں برقی انتشار پیدا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ 

ہر انسان کے دماغ میں برقی کرنٹ کارفرما ہوتا ہے، اسی کرنٹ کے ذریعے دماغ کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے منسلک رہ کر اپنا فعل انجام دیتا ہے، بعض انسانوں کے دماغ میں کسی خاص وجہ سے دماغی کرنٹ کی پیداوار کا نظام وقفہ وقفہ سے بگڑ جاتا ہے، اس کا نتیجہ مرگی کے دورے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر مرگی، بڑی اعصابی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ مرگی سے بچاؤ کے عالمی دن پر چلڈرن ہسپتال میں منعقدہ سیمینار میں ڈین پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، شعبہ نیورالوجی کے سربراہ ڈاکٹر ٹیپو سلطان، موٹیوویشنل سپیکر قاسم علی شاہ سمیت فیکلٹی ممبران، مریض بچے اور ان کے والدین شریک ہوئے، طبی ماہرین نے بتایا کہ ملک میں ایک فیصد آبادی مرگی کے عارضہ میں مبتلا ہے۔

مرگی کا عارضہ پیدائش کے بعد نمونیا یا تیز بخار ، دماغ کی ٹی بی، سر پر چوٹ، یا دوران پیدائش پیچیدگیوں سے لاحق ہوتا ہے، چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے کہا کہ مرگی قابل علاج مرض ہے اس کی بروقت تشخیص اور باقاعدگی سے ادویات کا استعمال کرکے معمول کی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ مرگی کو جن بھوت کا سایہ نہیں سمجھنا چاہئے، مرگی کی جلد تشخیص سے علاج ممکن ہے,قاسم علی شاہ نے کہا کہ معاشرے کو بھی مرگی کے مریضوں کو فعال زندگی بسر کرنے میں مدد دینی چاہئے، سیمینار کے اختتام پر مرگی سے بچاؤ کی آگاہی کیلئے واک کی گئی.