’’دال بڑا مال‘‘

’’دال بڑا مال‘‘

(سٹی 42) آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں دالوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ 

ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے ،’’ دال بڑا مال‘‘۔ بچپن میں تو ہم اس بات کو سمجھ نہیں پائے تھے لیکن اب اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ واقعی میں یہ بڑا مال ہے۔اقوام متحدہ نے2016کو دال کا سال قرار دیا دیا گیا تھا،اس سال سب سے زیادہ پکنے والی ڈش دال تھی۔

دال غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ہفتے میں ایک بار دال ابال کر کھانے سے آنتوں کی صحت بہتر رہتی ہے اور ان میں کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ دالیں کھانے سے قبض کی شکایت بھی دور ہوتی ہے۔  دالیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہیں کیونکہ فائبر موجود ہونے کی وجہ سے دال کھانے سے مریضوں کے خون میں شوگر کی مقدار میں زیادہ اضافہ نہیں ہوتا۔

دالوں میں فولاد موجود ہوتا ہے۔ فولاد سے خون کے سرخ جسیمے بنتے ہیں اور اگر فولاد کی کمی ہو تو جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔دالوں میں فولیٹ موجود ہوتا ہے۔ حاملہ خواتین میں فولیٹ کی کمی کی وجہ سے ان کے ہونے والے بچوں میں جسمانی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے ایک سنجیدہ بیماری نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔ اس بیماری کے شکار معصوم بچے تمام زندگی کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔

دالوں میں کئی ضروری وٹامن اور نمکیات موجود ہوتے ہیں۔ ان سے پروٹین کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ دالیں انسانی خون کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سبھی دالیں آئرن کا خزانہ ہیں۔ایک پلیٹ دال روزانہ کھانے سے مطلوبہ خوراک کا37 فیصد آئرن حاصل ہوتاہے۔اور دالوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے پٹھے کو مضبوط بناتی ہے۔

 ہر روز خشک چنے اور دالیں کھانے سے نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ یہ وزن کم ہونے کے بعد اسے دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔