پی آئی سی حملہ کیس:وکلا کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اعتراض لگ گیا

پی آئی سی حملہ کیس:وکلا کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اعتراض لگ گیا

ملک محمد اشرف : پی آئی سی ہسپتال پروزیراعظم کےبھانجے حسان نیازی سمیت دیگر وکلاء کےحملےکا معاملہ،لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے پنجاب حکومت کی وکلاء کی ضمانت منسوخی کےلیےدائردرخواست پراعتراض عائد کردیا۔

رجسٹرار آفس نے پنجاب حکومت کی وکلاء کی ضمانت منسوخی کےلیےدائراپیل پروکلاء کے خلاف درج ایف آئی آرز کی مصدقہ کاپی نہ لگانےکا اعتراض عائد کیا ہے،رجسٹرارآفس کےاعتراض کےباعث پنجاب حکومت کی اپیل سماعت کےلیےمقرر نہ ہوسکی۔

حکومت پنجاب نے وزیراعظم کےبھانجے حسان نیازی سمیت 8 ملزمان سید زین عباس،علی جاوید،عبدالمجید،مزمل حسین،عابد حسین ناز،اسامہ معاذ اورنعیم قمرکی ضمانت منسوخی کیلئےاپیل میں موقف اختیارکیا ہےکہ ملزمان نے100 سےزائد دیگر ساتھی وکلا کیساتھ مل کر پی آئی سی پرحملہ کیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وکلاء نےلوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی تھی،انسداد دہشتگری عدالت نےحقائق کونظراندازکرکےملزمان کی ضمانتیں منظورکی ہیں، پی آئی سی پرحملےسےمتعدد مریض جان سےگئےاور ان کا علاج متاثر ہوا تھا۔

پنجاب حکومت کی جانب سےدائراپیل میں استدعا کی گئی ہےکہ عدالت پی آئی سی حملےکےملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنےکا حکم دے۔

یادر ہے وکلا نے پی آئی سی پرباہر توڑ پھوڑ کے دوران پولیس وین کو آگ لگادی تھی، وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی بھی وہاں موجود پائے گئے۔