سینئر صحافی رضوان رضی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

سینئر صحافی رضوان رضی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

( ملک اشرف ) جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوشل میڈیا پر نامناسب پوسٹ لگانے کے الزام میں گرفتارسینئر صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں ایک لاکھ روپے مچلکوں کےعوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایف آئی اے نےسینئرصحافی رضوان رضی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ اسد سجاد کی عدالت میں پیش کیا، وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل ایک باعزت شہری، استاد اور صحافی ہیں لہذا ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ سنایا اور مقدمے میں لگائی گئی دفعہ 123 ختم کردی، سینئر رضوان رضی کا 14 دنوں کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سیشن کورٹ میں رضوان رضی کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے، عدالت نے مچلکوں کے جمع ہونے تک رضوان رضی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں قراردیا کہ رضوان رضی نے پاکستان ، اس کی تخلیق اور سلامتی کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سینئرصحافی رضوان رضی کے خلاف مقدمہ کا ریکارڈ اور ملزم کو 24 فروری کو سیشن کورٹ میں پیش کیا جائے اس سے پہلے ایف آئی اے نے بتایا کہ سینئرصحافی رضوان رضی کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اور استدعا کی کہ تفتیش کیلئے ان کا ریمانڈ دیا جائے۔

موکل کے وکلا نے ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی اور رضوان رضی کے ریمانڈ کو بلاجواز قرار دیا۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ اتوار کی وجہ سے ضمانتی مچلکے جمع نہ ہوسکے، جس کی وجہ سے رضوان رضی ضمانتی مچلکوں کے جمع ہونے تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل رہیں گے۔