عوام خبردار ، کورونا وائرس کی ساؤتھ افریقن مہلک قسم سامنے آگئی

(زاہد چودھری) عوام خبردار ، کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر میں متاثر کرنے والا وائرس معدوم ،تیسری لہر میں 97 فیصد افراد برطانوی وائرس کا شکار ہوگئے،برطانوی وائرس تیزی سے پھیلنے کی خاصیت کا حامل ہے، کیسز مزید بڑھنے کا خدشہ ، کورونا وائرس کی ساؤتھ افریقن مہلک ٹائپ کے کیسز بھی لاہور میں سامنے آگئے ، ساؤتھ افریقہ سے آنے والے 5 شہریوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

 تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر میں متاثر کرنے والی وائرس کی قسم تیسری لہر کے دوران معدوم ہوگئی ہے ۔کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران 97 فیصد سے زائد شہر ی کورونا وائرس کی برطانوی ٹائپ سے متاثر ہورہے ہیں ۔ برطانوی ٹائپ میں تیزی سے پھیلنے کی خاصیت ہے،جس کی وجہ سے حالیہ لہر کے دوران کیسز مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ اس کے علاوہ لاہور میں کورونا وائرس کی ساؤتھ افریقن ٹائپ کی موجودگی بھی سامنے آگئی ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق  حال ہی میں ساؤتھ افریقہ سے آنے والے 5 شہریوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔ ماہرین کورونا وائرس کی ساؤتھ افریقن اور برازیلین ٹائپ کو برطانوی ٹائپ سے بھی زیادہ مہلک قرار دے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں شہر بھر میں کورونا کی تیسری لہر کے وار جاری ہیں، فاروق ہسپتال ٹھوکر میں کورونا کے 53 مریض زیر علاج ،، پانچ مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔فاروق ہسپتال میں کورونا کے21 مریض آئی سی یو میں،سات مریض آئیسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں ۔ ہسپتال میں پانچ کوروناکے مریض وینٹی لیٹر پر ہیں ۔ پچیس مریضوں کو ایچ یو ڈی وارڈ میں رکھا گیا ہے ۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق فاروق ہسپتال میں کورونا کے کسی مریض کا آج انتقال نہیں ہوا۔

کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران مریضوں کی تعداد اور اموات میں اضافہ بتدریج جاری ہے ۔ چلڈرن ہسپتال میں کورونا وائرس سے مزید 3 بچے زندگی کی بازی ہار گئے ۔ جناح ہسپتال میں 8 نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ میں کورونا سے 5 ، شوکت خانم ہسپتال میں 3 یونیورسٹی آف لاہور ہسپتال میں کورونا سے 2 اموات ہوئیں ۔ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال، پی آئی سی، گنگا رام ہسپتال ، سرجی میڈ ہسپتال، نیشنل ہسپتال اور مسعود ہسپتال میں کورونا سے ایک ایک مریض دم توڑ گیا ۔ شہر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 1276 نئے مریض سامنے آئے ہیں ۔ ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے 749 مریض داخل ہیں جن میں سے 223 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔