رائیونڈ میں شرمناک واقعہ، کمسن بچی چارماہ کی حاملہ

رائیونڈ میں شرمناک واقعہ، کمسن بچی چارماہ کی حاملہ
rape

(سٹی42)خواتین، بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی کی بجائے آئے روز اضافہ ہورہا ہے، لرزہ خیز واقعات میں ملوث ملزمان آزاد گھومتے نظر آتے ہیں،ایک ایساشرمنا ک واقعہ رائیونڈ میں پیش آیا جہاں  پا نچویں جماعت کی کمسن بچی کے ساتھ زیادتی  کے چارماہ بعد حاملہ ہونے کاانکشاف ہوا۔

تفصیلات کے مطابق پانچویں جماعت کی کمشن بچی کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ رائیونڈ کے علاقہ جیابگا میں پیش آیا،تین بچوں کے باپ نے گن پوائنٹ پر ماموں زاد کمسن بچی سے زیادتی کی۔پو لیس حکا م کا کہناتھا کہ بچی کی طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر کو چیک کروایا گیا تو  ڈاکٹر نے چارماہ کی حاملہ ہونے کاانکشاف کر ڈا لا ۔

 متاثرہ بچی کے وا لد کا کہنا ہے کہ ملزم نے میر ی بیٹی کوگھرمیں اکیلی دیکھ کر گن پوائنٹ پرزیادتی کی تھی۔بچی کے والد کی درخواست پر حقیقی بھانجے محمدغفار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔تاہم ملزم موقع سے فرار ہے ۔پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملز م کی تلا ش شرو ع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا غیر سرکاری تنظیم نے سال 2020 کے اعدادو شمار جاری کردیئے،رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ سال 2020 میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 2960 واقعات رپورٹ ہوئے، سال 2020 میں 4فیصد اضافے کے ساتھ اوسطا روزانہ 8 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق 1510لڑکیوں اور 1450 لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں سے بدفعلی کے 985 اور زیادتی کے 787واقعات ہوئےزیادتی کے بعد قتل کے 80 اور ویڈیوز بنانے کے 89 واقعات پیش آئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اغواء کے 834 اور گمشدگی کے 345 اور کم عمری کی شادی کے 119 واقعات رپورٹ ہوئے،بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں 1780 واقعات میں جاننے والے ملوث پائے گئے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ 109واقعات میں پیشہ ور ملزمان اور 91 واقعات میں اپنے ہی خاندان کے افراد شامل تھے،468واقعات میں بچوں کو انجان افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے 58فیصد واقعات پنجاب، 29فیصد سندھ، 7فیصد خیبر پختونخواہ، میں رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے 3 فیصد واقعات اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے، 18 واقعات بلوچستان، 4آزاد کشمیر اور 4گلگت بلستان میں پیش آئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 65فیصد واقعات دیہی علاقوں اور 35 فیصد شہری علاقوں میں پیش آئے،