لاہور میں کورونا بے لگام، مزید31 افراد لقمہ اجل بن گئے، 1276 متاثر

لوئر مال (زاہد چودھری/ علی ساہی/ جنید ریاض) کورونا وائرس کے مہلک وار جاری، جاں لیوا وائرس 24 گھنٹے کے دوران مزید 31 قیمتی زندگیاں نگل گیا، 1276 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی،سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں 761 مریض داخل ہیں جن میں سے 208 کی حالت تشویشناک، وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہیں۔

ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ میو ہسپتال میں 14 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ جناح ہسپتال میں 8 ، گنگا رام ، نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ ، گھرکی ٹرسٹ ہسپتال، مڈ سٹی ہسپتال، سرجی میڈ ہسپتال، نیشنل ہسپتال، شوکت خانم اور ایور کیئر ہسپتال میں بھی کورونا وائرس سے ایک ایک موت کی تصدیق کی گئی ہے آئی جی افس کے2 ڈی آئی جیز نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر گھر میں قرنطینہ کرلیا، چیئرمین ٹیوٹا پنجاب علی سلمان صدیق بھی کوروناوائرس کاشکار ہوگئے۔

ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ شارق کمال کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی، دونوں افسران کے ساتھ کام کرنے والے سٹاف کا بھی کوروناٹیسٹ کروایا جائے گا۔ 

علاوہ ازیں کوروناکی وجہ سے سرکاری سکولز میں مئی میں ہونیوالے امتحانات ملتوی کردیئے گئے، سکولز ایجوکیشن نے پہلی سے آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحانات جون میں کروانے پر غور شروع کردیا، امتحانات 18 مئی سے شروع ہونے تھے۔ اضلاع کی کارکردگی جانچے کیلئے 3 مئی سے 6مئی تک شیڈول کیے گئے امتحانات کو بھی ملتوی کردیا گیا ۔لارج سکیل اسسمنٹ میں صوبے کے 5 ہزار سکولوں کے بچوں کو ٹیسٹ کیا جانا تھا۔

دوسری جانب کورونا ویکسین کی پرائیوٹ سیکٹر میں فراہمی کھٹائی میں پڑ گئی، ویکسین درآمد کی اجازت حاصل کرنے والی تین میں سے صرف ایک فرم نے روسی ویکسین کا محدود سٹاک منگوایا، وہ بھی ختم ہوگیا، مزید 3 سے 4 ہفتے تک کورونا ویکسین ملنے کا کوئی امکان نہیں۔

حکومت کی جانب سے صرف تین فرموں اے جی پی، سندھ میڈیکل سٹور اور اے جے ایم کو بیرون ملک سے تین مختلف ویکسین منگوانے کی اجازت دی گئی تھی، تاحال صرف اے جی پی کی جانب سے روسی ویکسین سپوٹنک فائیو کا محدود سٹاک منگوایا گیا،  50 ہزار خوراکیں منگوا کر ملک بھر میں پرائیویٹ ویکسی نیشن سنٹرز کو فراہم کی گئیں، شدید مانگ کے باعث ویکسین چند گھنٹوں میں ہی انتظار میں بیٹھے شہریوں نے لگوا ڈالی۔ 

ذرائع کے مطابق ویکسین امپورٹ کی اجازت حاصل کرنے والی فرم سندھ میڈیکل سٹور نے برطانوی ویکسین ایسٹرازینیکا درآمد کرنا تھی لیکن ایسٹرازینیکا ویکسین بھارت میں تیار ہورہی ہے، انڈیا کی اپنی مانگ بہت زیادہ ہونے کے باعث تاحال سندھ میڈیکل سٹور کو چند ماہ تک ویکسین ملنے کا امکان نہیں ہے ۔