گھریلو ناچاقی اور بچوں کی حوالگی کے کیسز میں سو فیصد اضافہ

گھریلو ناچاقی اور بچوں کی حوالگی کے کیسز میں سو فیصد اضافہ

( ملک اشرف ) مہنگائی، اخراجات، گھریلو ناچاقی اور عدم برداشت نے کئی گھرانے اجاڑ دیے، ہائیکورٹ میں فیملی، خرچے اور بچوں کی حوالگی کے کیسز میں سو فیصد اضافہ ہوگیا، وکلاء نے خاندانی جھگڑوں کی بڑی وجہ مہنگائی اور عدم برداشت کو قراردے دیا۔

ہائی کورٹ میں فیملی اور گارڈین کیسز کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، طلاق یافتہ خواتین نے سابق شوہروں سے بچوں کا زیادہ خرچہ لینے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ خاوند بھی فیملی کورٹس کے مقرر کردہ خرچے کے فیصلے سے مطمئن نہیں اور خرچہ میں کمی کے لیے ہائیکورٹ کا رخ کررہے ہیں۔

سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان سمیت دیگر وکلاء کہتے ہیں کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرے، جس سے لوگوں کے مسائل میں کمی آئے گی۔ مہنگائی اور عدم برداشت کے باعث طلاقوں اور عدالتوں میں کیسز کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ وکلاء کہتے ہیں کہ مہنگائی اور عدم برداشت کو کنٹرول کرنے سے فیملی اور گارڈین کیسز میں کمی لائی جاسکتی ہے۔