راوی اربن سٹی: پہلے فیز کیلئے 140 ارب کہاں سے دے، حکومت مشکل میں پڑ گئی

راوی اربن سٹی: پہلے فیز کیلئے 140 ارب کہاں سے دے، حکومت مشکل میں پڑ گئی

علی رامے:  روای کنارے نیا شہر بنانے کے لیے حکومت پہلے فیز میں 140 ارب کہاں سے دے؟ جگہ خریدنے کے لیے پنجاب حکومت مالی مشکل میں پڑ گئی۔ محکمہ خزانہ کے حکام نے میگا منصوبے پر بڑی رقم دینے کے سر جوڑ لیے۔ منصوبہ بندی کے لیے روای ریور پراجیکٹ اینمیشن وڈیو استعمال کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فنڈ کے حصول کے کیے "برئج فنانسنگ" کی حکومت کو سمری ارسال کی گئی جس میں اتھارٹی نے حکومت سے فنڈ دینے کی استدعا کی اور کہا ہے کہ پھر اتھارٹی ذرائع آمدن کے یہ فنڈ واپس کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ نہ یہ معاملہ کیبنٹ کمیٹی کو مشاورت اور منظوری کے لیے ارسال کردیا ہے۔ ایک لاکھ ایکٹر رقبے کی خریداری کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے 3 کھرب 84 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر پہلے فیز میں 44 ہزار ایکٹر رقبے کی خریداری کے لیے 1 کھرب 40 ارب روپے مطلوب ہیں۔ 

یاد رہے کہ راوی ریور اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے آغاز کا مقصد لاہور کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ 46 کلومیٹر دریا کے منصوبے، کمپلیکس کے قیام اور سڑکوں کے جال سے لاہور دنیا میں ایک جدید شہر کے طور پر  سامنے آئے گا۔ یہ پراجیکٹ تین مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں 46 کلومیٹر طویل اور 3280 فٹ چوڑائی کے ایک دریا کے منصوبے کی تکمیل کی جائیگی، تین بیراج، چھے واٹر ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ایک اربن جنگل بھی ابتدائی تین سال میں بنائے جائیں گے۔ دریا سے 271 ارب لیٹر پانی ملےگا جس سے 2045 تک لاہور کی پانی کی ضروریات پوری ہوں گی۔

اس پراجیکٹ کے لیے کُل مختص زمین ایک لاکھ 3 ہزار 271 ایکڑ ہے جس میں ویسٹ واٹر، دریا کے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس، سڑکوں کا نیٹ ورک اور 12 نئے شہروں کا قیام ہوگا۔ اِن شہروں میں میڈیکل سٹی، ریزیڈنشل سٹی، ڈاؤن ٹاؤن، کمرشل حب اور اربن فارمز شامل ہوں گے۔

دوسرے مرحلے میں انوویشن سٹی بنائی جائے گی جو کہ 1370 ایکڑ پر قیام میں لائی جائے گی، جب کہ تیسرے مرحلے میں سپورٹس سٹی، نالج سٹی اور ایکو سٹی کا قیام 14 ہزار ایکڑ پر کیا جائے گا۔