سموگ کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی

( بسام سلطان ) ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی سے شہر میں فضائی آلودگی میں دن بدن اضافہ، دو دن میں ایئر کوالٹی انڈکس 200 سے 445 تک جا پہنچا۔

ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی سے شہر میں فضائی آلودگی میں دن بدن اضافہ، شہر میں سموگ نے ڈیرے جما لئے۔ دو دن میں ایئر کوالٹی انڈکس 200 سے 445 تک جا پہنچا۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے دھواں چھوڑنے شاہراہوں کے خلاف کارروائی کے دعوے مگر شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ سمیت سرکاری اداروں کی گاڑیاں بھی سموگ میں اضافے کا باعث بننے لگی۔

 چند دنوں میں حد نگاہ میں بھی شدید کمی دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ دھواں دینے والی گاڑیوں کی آمدو رفت بند کرنے میں ناکام ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی اور سموگ سے سانس لینے کی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ شہری ماسک کا لازمی استعمال اور غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کریں۔

لاہور سمیت صوبے بھر میں سموگ کے تناسب میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے، جس پر پنجاب حکومت نے سموگ کا باعث بننے والی صنعتوں کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق لاہور سمیت صوبے بھر 2738 صنعتیں سموگ کا سبب بن رہی ہیں، ان صنعتوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔

لاہور میں اے کیٹیگری میں 435 صنعتیں، بی کیٹیگری میں 66 صنعتیں اور سی کیٹیگری میں 255 صنعتیں شامل ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے متعلقہ محکموں کو مذکورہ صنعتوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔