پروموشن حاصل کرنے والی سینکڑوں خواتین اساتذہ رل گئیں

پروموشن حاصل کرنے والی سینکڑوں خواتین اساتذہ رل گئیں

جنیدریاض:اساتذہ کی مشکلات کم نہ ہوسکیں ۔ان سروس پروموشن حاصل کرنے والی سینکڑوں خواتین اساتذہ رل گئیں،لاہور میں 316 فی میل اساتذہ کی پروموشن لیکن ایڈجسٹمنٹ کیلئے سیٹیں صرف پانچ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اساتذہ کی پچاس فیصد ان سروس پروموشن کوٹہ کی سیٹوں پر بھی شب خون مارا گیا۔ ایجوکیشن اتھارٹی نے 316 خواتین اساتذہ کو ترقیاں دینے کے بعد تاحال خالی سیٹیں فراہم نہ کیں۔خواتین اساتذہ کو درخواستیں جمع کرانے کیلئے 11 نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔مقررہ تاریخ تک درخواستیں جمع نہ ہوئیں تو خواتین اساتذہ کی پروموشن روک دی جائے گی۔

خواتین اساتذہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے تمام خالی اسامیوں کی آپشن کھولنے کا مطالبہ کردیا۔ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کےمطابق پی آئی ٹی بی ایپلی کیشن کو اپ ڈیٹ کررہا ہے، امید ہے آج اساتذہ کو تمام خالی اسامیوں کی آپشن فراہم کردی جائےگی۔

واضح رہے کہ ا ستاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔