تحریک انصاف کے ایم این اے کی کامیابی خطرے میں پڑ گئی

تحریک انصاف کے ایم این اے کی کامیابی خطرے میں پڑ گئی


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں این اے 135 سے پی ٹی آئی کے ایم این اے ملک کرامت کی کامیابی کے خلاف درخواست پر سماعت، عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے بارے 16 نومبر کو دلائل طلب کرلیے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

تفصیلات کے مطابق جسٹس چوہدری اقبال نے ناکام (ن) لیگی امیدوار ملک سیف الملوک کھوکھر کی الیکشن پٹیشن اور پی ٹی آئی کےایم این اے ملک کرامت کھوکھر کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر سماعت کی۔ مسلم لیگ (ن) کے ناکام امیدوار ملک سیف الملوک کھوکھر نے انتخابی عذرداری کی درخواست میں حلقہ کے ریٹرنگ افسر اور الیکشن لڑنے والے تمام امیدواروں کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملک کرامت کھوکھر آرٹیکل 62۔ 63کی کوالیفکیشن پر پورا نہیں اترتے۔

درخواستگزار کے وکیل کے مطابق ملک کرامت کھوکھر نے کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے 10 ہزار سے زائد ووٹوں کوغیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔ اسے فارم 45بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ ریٹرنگ افسر نے دھاندلی سے ملک کرامت کھوکھر کو جتوایا۔ درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت ملک کرامت کھوکھر کی کامیابی کےنوٹیفکیشن کو کالعدم اور اس حلقہ سے دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس نے کاغذات نامزدگی میں تما م حقائق ظاہر کیے۔ درخواستگزار نے سیف الملوک کھوکھر کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا بھی کی۔ 

عدالت نے انتخابی عذرداری کی درخواست پر سماعت  16 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو اس کے قابل سماعت ہونےبارے دلائل دینے کی ہدایت کردی۔