لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی، فیصلہ ہوگیا

 لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی، فیصلہ ہوگیا

(قیصرکھوکھر) محکمہ داخلہ پنجاب نےاعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن شہروں میں بیماری زیادہ پھیلی ہےوہاں لاک ڈاؤن میں سختی ہوگی،چھوٹےشہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق  محکمہ داخلہ پنجاب نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کھلنے کاباقاعدہ فیصلہ آج ہوگا۔تاہم چھوٹےشہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے۔جن شہروں میں بیماری زیادہ پھیلی ہےوہاں لاک ڈاؤن میں سختی ہوگی۔ہفتےمیں5روزچھوٹی دکانیں اورمارکیٹیں کھلیں گی،بڑی مارکیٹیں اورشاپنگ مالزکوکھولنےکافیصلہ ابھی نہیں ہوا،ملتان اورلاہورمیں کوروناپھیلنےکےباعث سختی کی جارہی ہے۔پنجاب حکومت لاک ڈاون کھولنے کے حوالے سے سرکاری نوٹی فیکیشن آج جاری کرے گی نوٹی فیکیشن کے مطابق کھولی جانے والی صنعتوں/شعبوں کو ایس او پیز پر من و عن عمل کرنا لازم ہوگا۔

ذرائع کا کہناتھا کہ پنجاب حکومت کا لاک ڈاون کے حوالے سے اہم اقدام اٹھایا جس کے مطابق  ہفتے میں چار دن دن نرمی اور 3 دن مکمل لاک ڈاون کا فیصلہ کیا۔پنجاب حکومت نے لاک ڈاون کے حوالے سے مرتب کی گئی پالیسی میں 3 دن لاک ڈاون جبکہ 4 دن نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتے میں تین دن جمعہ ہفتہ اتوار پورے پنجاب میں لاک ڈاون ہوگا۔چار دن پیر منگل بدھ جمعرات نرمی کی جائے گی ۔ نرمی کے چار دنوں میں دکانیں اور عام بازار کھلے ہوں گے جبکہ شاپنگ پلازہ اور بڑے مال پورا ہفتہ بند رہیں گے ۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں دوکانیں کھولنے کیلئے وفاقی حکومت کے نوٹیفیکشن کا انتظار ہے۔ ادھر ڈی سی،سی سی پی او اورتاجرتنظیمیں کا اجلاس ہوگا جس میں باہمی مشاورت سےدکانیں اورمارکیٹیں کھولنےکافیصلہ کیا جائے گا۔شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں کے مرکزی قائدین وتاجران مارکیٹس کھولنے پہنچے مگر پولیس نے اجازت نہ دی۔ پولیس نے ہال روڈ'بیدن روڈ'اردو بازار'برانڈرتھ روڈ'انارکلی بازار 'کریم مارکیٹ'شاہ عالم مارکیٹ 'اعظم کلاتھ مارکیٹ'کیمیکلز مارکیٹس'پیپر مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹس کے داخلی وخارجی راستوں کو بیئریئر لگا کر بند کیے رکھا۔ مرکزی جنرل سیکرٹری انجمن تاجران عتیق میر نے مذمت کرتے ہوئےکہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے وزیراعظم عمران خان کے احکامات کی نفی کرتے ہوئے چھوٹی دوکانیں بھی 'کھولنے کی اجازت نہیں دی

دوسری جانب   لاک ڈاؤن ختم کرنے اور مارکیٹیں کھولنے سےمتعلق تاحال حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن تو جاری نہ ہوا مگر شہری سڑکوں پر نکل آئے سڑکوں پر ٹریفک کا رش لگ گیا،شہری حکومتی احکامات کی خلاف ورزی بھی کرتے رہے ناکوں پر تعینات پولیس اہلکار اور ٹریفک وارڈنز ڈیوٹی کے دوران ہی چھاوں کے مزے لیتے رہے لوکل ٹرانسپورٹ اور ڈبل سواری کی خلاف ورزی بھی عروج پر رہی۔

پولیس اہلکاروں کا ناکوں پر ڈیوٹی کرنا بلکل بیکار ہے۔ٹریفک وارڈنز تو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ڈیوٹی کے دوران ہی موبائل فون استعمال کرنے میں لگے ہیں۔ راولپنڈی میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد دکانیں کھلنا شروع کھانے پینے کی اشیا اور دواؤں کی دکانیں بھی کھلی ہیں۔ تعمیرات سے معتلقہ سینیٹری، سٹیل، المونیم اور ہارڈویئر کی دکانیں کھلنے لگی ہیں۔ شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس اور ہوٹل بند  جبکہ راولپنڈی سے مختلف شہروں اور صوبوں کے لئےٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دکانیں کھولنے سے متعلق احکامات جاری نہیں ہوئے۔