’’معلوم نہیں حکومت نے اورکتنا ظلم کرنا ہے‘‘

’’معلوم نہیں حکومت نے اورکتنا ظلم کرنا ہے‘‘

ملک محمد اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پی سی ایل میچز کے دوران ٹریفک نظام کی ابتر صورتحال کے متعلق سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ لوگ پسے ہوئے ہیں، معلوم نہیں حکومت نے اورکتنا ظلم کرنا ہے،سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرکیا رہی ہے؟روزانہ لائٹس پر کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں، روشنی کے اثرات سے لوگ مر رہے ہیں، بیمارہورہے ہیں، عدالت نے سی ٹی اوکو پی سی ایل میچز کے دوران ٹریفک روانی برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پی ایس ایل میچزکےدوران ٹریفک انتظامات کی ابترصورتحال پرکیس کی سماعت کی، سی ٹی او سید حمادعابد عدالت کے روبروپیش ہوئے اور پی سی ایل میچز کے دوران ٹریفک پلان پیش کیا، جسٹس شاہد کریم نے میچزکےدوران ٹریفک کی بندش پرسخت اظہارناراضگی کیا کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ  پی ایس ایل میچز کے دوران ٹریفک نظام کی ابتر صورت حال ہوتی ہے۔

معلوم نہیں حکومت نے کتنا ظلم کرناہے،لوگ پہلےہی پسےہوئے ہیں،سمجھ نہیں آرہی حکومت کیاکررہی ہے، میچ کے نام پر کروڑوں روپےروزانہ خرچ کئے جارہے ہیں کوئی فائدہ نہیں۔

چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ حماد عابد نے عدالت کو بتایا میچزکےدوران کیبنٹ کمیٹی کی مشاورت سےٹریفک پلان بنایا،شہریوں کی سہولت کیلئے ٹریفک وارڈنز اور پارکنگ سٹینڈ کی تعداد بڑھائی،کوشش ہے کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ  پی سی ایل میچز کے دوران روزانہ لائٹس پربھی کروڑوں خرچ کئے جارہے ہیں،روشنی کےاثرات سےلوگ مررہے ہیں،بیمارہورہے ہیں،روشنی تو سولرز سے بھی کیا جاسکتی ہے،سیکیورٹی  خدشات کے لیے اقدامات ضروری ہے لیکن میچ کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے چیف ٹریفک آفیسر کو پی سی ایل میچ کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔