جھوٹے مقدمات دائر کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے درخواستیں

جھوٹے مقدمات دائر کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے درخواستیں

(شاہین عتیق) سیشن کورٹ میں جھوٹےمقدمات درج کراکرچالان بھجوانےوالےافراد کیخلاف کارروائی، عدالتوں سے بیگناہ قرارپانےوالےافرادکی مدعی اورگواہوں کیخلاف درخواستیں، درخواست گزاروں کاموقف ہے کہ جھوٹی گواہی دینےاور مقدمات درج کرنےپر قانون سازی ہونی چاہیے۔

سیشن کورٹ اور دیگرعدالتوں میں بےشمارملزمان ایسےہیں جوجھوٹے مقدمات میں جیل کی سلاخوں کےپیچھےہیں. یہ ملزمان جب بے گناہ قرار پانےکے بعد جیل سےباہرآتے ہیں توان کی زندگی کےکئی سال گزرچکے ہوتے ہیں، ملزمان کی جانب سےجھوٹا مقدمہ درج کرانے والےکے خلاف کارروائی کی درخواست پرمدعی کو چھ ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔

وکلا کا کہنا ہےکہ ایک بے گناہ شخص جب جھوٹے کیس میں چار سال اندررہتا ہےتوجھوٹا کیس درج کرانےوالےکو بھی اتنی ہی سزا ہونی چاہیے، حکومت کواس قانون میں فوری ترمیم کرنی چاہیے۔

سیشن کورٹ اور سول کورٹ میں بے گناہ افراد کی جانب سےجھوٹے کیس دائرکرانے والے افراد کےخلاف کارروائی کے لیے درخواستیں دی جارہی ہیں، جھوٹے مقدمات کا اندراج کرانا ایک سنگین جرم ہےجس کی سزا زیادہ ہونی چاہیےتاکہ اس رجحان کو روکا جاسکے۔