’’ڈاکٹرز بھی وہی کرنا چاہتے ہیں جو وکلا نے پی آئی سی میں کیا‘‘

’’ڈاکٹرز بھی وہی کرنا چاہتے ہیں جو وکلا نے پی آئی سی میں کیا‘‘

وقار گھمن : کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر انتظام عالمی ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کر رہے، صرف انتظامی ایکٹ لا رہے ہیں، وائے ڈی اے والے کام کی بات نہیں کرتے صرف اپنے بندے بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہسپتالوں کو بجٹ دیتے رہیں گے مریضوں کا مطمئن ہونا بھی ضروری ہے۔

ورکشاپ میں وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر محمود ایاز ،اسد اسلم،پروفیسر سہیل چغتائی اور پروفیسر عامر زمان سمیت امریکہ برطانیہ سعودی عرب اور ایران سے آ ئے طبی ماہرین نے شرکت کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کر رہے صرف انتظامی تبدیلی کر رہے ہیں، ہسپتالوں کو جو بجٹ اب ملتا ہے وہ ایسے ہی ملتا رہے گا ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہم ایک بیڈ پر 45 لاکھ روپے دیتے ہیں تو اس سے مریضوں کا مطمئن ہونا بھی ضروری ہے،سٹینڈنگ کمیٹی این ٹی آئی کی منظوری دے چکی اسمبلی سے بھی منظور ہو جائے گا.

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ جو کام وکلاء نے پی آئی سی میں کیا تھا وہی ڈاکٹر بھی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے طبی سہولیات کی فراہمی کو روکا ڈاکٹر بھی یہی چاہتے ہیں، گرینڈ ہیلتھ الائنس نے کبھی کام کی بات نہیں کی جب بات کرتے ہیں نکالے گئے لوگوں کو بحال کرنے کا کہتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ پر کام مکمل ہوچکا ہے.

تقریب کے دیگر شرکاء کا کہنا تھا کہ میو ہسپتال  میں ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس کا مقصد ڈاکٹرز کو مزید تربیت دینا ہے۔ حادثہ کی صورت میں ہسپتال آئے مریض کا پہلا گھنٹہ بہت اہم ہوتا ہے۔