کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز سے اہم اختیارات واپس لینے کا حکم

کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز سے اہم اختیارات واپس لینے کا حکم

ملک محمد اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں موبائل سگنلز کی عدم دستیابی اور ٹاور نہ لگانے کا معاملہ ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے وفاقی وِزیر انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی امین الحق قادری اور چئیرمین پی ٹی اے جنرل ریٹائرڈ عامر عزیز باجوہ کو  14  جولائی کو ذاتی حیثیت میں جواب سمیت حاضر ہونے کا حکم دے دیا۔جبکہ کمشنرزاورڈپٹی کمشنرزکوسپیشل مجسٹریٹس کےعدالتی اختیارات دینےسےمتعلق نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے میاں شبیر اسماعیل کی درخواست پر حکم جاری کیا ۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ سگنلز کی بہتر دستیابی نہ ہونے کے باعث ہزاروں لوگ متاثر ہورہے ہیں ،سرکار نے کیاکارروائی کی؟  ۔ وفاقی وزیر اور چئیرمین پی ٹی اے عدالت کو آگاہ کریں ۔اگر کوئی ادارہ عوام کی فلاح کا کام نہ کرے توکیوں نہ اسے حکومت کی بیڈ گورنس سمجھا جائے ۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نےحکم دیا کہ عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے کہ سگنلز کی بہتری کیلئے اب تک کیا کیا اورمزید کیا کریں گے۔جس ٹاور کمپنی نے صارفین کو سہولت نہیں دی اس کیخلاف کیا کارروائی کی گئی ؟؟

درخواستگزارنےموقف اختیارکیاکہ عدالتی حکم کے باوجود موبائل کمپنیاں ٹاور نہیں لگا رہیں،استدعا ہےکہ عدالت کمپنیوں کو ہائیکورٹ کی حدود میں کھمبے نصب کرنےکاحکم دے۔ مزید استدعا کی گئی کہ ہائیکورٹ کے ارد گرد لگے جیمز کوبھی ہٹانے کا حکم دیا جائے۔

دوسرے مقدمہ میں لاہور ہائیکورٹ نےکمشنرزاورڈپٹی کمشنرزکوسپیشل مجسٹریٹس کےعدالتی اختیارات دینےسےمتعلق نوٹیفکیشن معطل کر دیا، چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نےریمارکس دئیےکہ حکومت سسٹم کاتماشا نہ بنائے، سسٹم کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے تنویر عبداللہ کی درخواست پر سماعت کی، درخواستگزارکے وکیل نے دلائل دیےکہ عدلیہ اور ایگزیکٹوکےاپنے علیحدہ، علیحدہ اختیارات ہیں، پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن کے ذریعے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیئے ہیں۔

درخواستگزاروکیل نےدلائل دیتےہوئےکہاکہ پنجاب حکومت کانوٹیفکیشن آرٹیکل 173 کےسیکشن 3 اورسی پی سی کےسیکشن 14 اور 39 کیخلاف ہے، انتظامی افسران کوجوڈیشل پاورزدینےسےمتعلق نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 2 اے اور آرٹیکل 9 کی بھی خلاف ورزی ہے، اعلی عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق ایگزیکٹو عدلیہ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، درخوستگزار کے وکیل بیرسٹر مومن ملک نے استدعا کی کہ پنجاب حکومت کا عدالتی اختیارات سے متعلق سترہ جون کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک عبدالعزیز پیش ہوئے اورمختلف قوانین کا حوالہ دیا،لیکن عدالت کو مطمئن نہ کرسکے ۔ چیف جسٹس نے اظہار ناراضگی کرتےہوئےکہاوہ قطعاً برداشت نہیں کریں گےان کالاءافسر انہیں مس گائیڈکرنےکی کوشش کرے۔ چیف جسٹس محمدقاسم خان نے انتظامی افسران کو جوڈیشل پاورز دینے سےمتعلق نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روکتےہوئےپنجاب حکومت سے جواب بھی طلب کر لیا۔