نشے کی لت ایک اور جان لے گئی، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

نشے کی لت ایک اور جان لے گئی، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

چوہنگ (فخرامام) نشے کی لت ایک اور جان لے گئی،چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو قتل کردیا, پولیس نے نعش  قبضہ میں لیکر  پوسٹمارٹم کیلئے جناح ہسپتال منتقل کردی۔

 صوبائی دارالحکومت میں  قتل و غارت جیسی لرزہ خیز وارداتوں کا  آئے دن ہونا معمول بن چکا ہے ، ہر روز نیا طلوع  ہونے والاسورج غروب ہوتے ہی اپنے ساتھ  کئی جانوں کو لے جاتا ہے اور  خوشیاں  غموں میں بدل جاتی ہیں، آج چوہنگ میں چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول شیرشاہ کالونی میں واقع ہوسٹل میں اپنے بھائی اور دوستوں کے ہمراہ رہتا تھا، دونوں بھائی نشے کے عادی تھے، مقتول حسن امجد پھولنگر کا رہائشی اور لاہور میں اے سی سی اے کا طالب علم تھا، جو کال سنٹر میں بھی ملازمت کر رہا تھا۔

ایس ایچ او چوہنگ کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی حسان نے بڑے بھائی حسن امجد کو راڈ اور شیشے کے وار کر کے قتل کر دیا، حسان نے نشے کی حالت میں قتل کیا۔

مقتول کے کزن نعمان کا کہنا ہے کہ انھیں شک ہے کہ مقتول کو اس کے بھائی نے دوستوں سمیت قتل کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران جون کے مہینے میں بے گھر  نامعلوم  40منشیات کے عادی افراد جان سے بازی ہار گئے، ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب نے جون کے مہینے کی رپورٹ جاری کردی۔

 کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین نے رپورٹ پیش کی،رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد کی لاشیں فٹ پاتھ، پارکوں، سڑک کنارے پائی گئیں۔ سید ذوالفقار حسین کے مطابق خوراک کی کمی، منشیات کی عدم دستیابی اور زیادہ مقدار میں منشیات کا استعمال اموات کی وجہ بنا۔

سید ذوالفقار حسین کا کہنا تھا کہ پنجاب میں منشیات کیخلاف اینٹی ڈرگز نارکوٹکس اتھارٹی کے قیام کی اشد ضرورت ہے، شہر کے 120 مقامات پر منشیات کے عادی افراد بری حالت میں رہ رہے ہیں جن میں 50 سے زائد مقامات انتہائی اہم ہیں جہاں خواتین بھی سرعام منشیات کا استعمال کر رہی ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں نشے کے عادی افراد کے داخل اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تعداد سڑکوں فٹ پاتھوں میں اضافہ ہوا۔