پائلٹس کے مشکوک لائسنس پر عالمی برادری کے خدشات

پائلٹس کے مشکوک لائسنس پر عالمی برادری کے خدشات

کینٹ (سعید احمد سعید) پائلٹس کے مشکوک لائسنس، تحقیقات میں عالمی اداروں کو شامل کرنے کا مطالبہ، وزیر اعظم عمران خان کو انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن نے بھی خط لکھ دیا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں پائلٹس کیخلاف تحقیقات میں عالمی اداروں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، ایاٹا اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے، وزیر ہوا بازی کی جانب سے بنا تحقیقات کے پائلٹس کے لائسنس جعلی قرار دینے پر شدید تحفظات ہیں، تمام آزاد مبصرین کے مطابق مسئلہ خود پی آئی اے میں ہے، وزیر ہوا بازی کے بیان کے اثرات یورپ میں پی آئی اے پر پابندی کی صورت میں سامنے آئے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کو پائلٹس لائسنس سکینڈل اور طیارہ حادثے کی تحقیقات میں معاونت کیلئے شامل کیا جائے، پاکستانی پائلٹس کے مشکوک لائسنس کا معاملے پر یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے عالمی سطح پر اپنے خدشات کا اظہار کر دیا، جعلی لائسنس کے حوالے سے یورپی ممالک کیساتھ تھرڈ کنٹری آپریٹرز کو بھی خط لکھ دیا۔

 خط کے متن کے مطابق پاکستانی پائلٹوں کے پاس 40 فیصد لائسنس جعلی ہیں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری پائلٹوں کے لائسنس جعلی ہیں، ان کو انٹر نیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں رجسٹرڈ نہیں کرایا گیا، پائلٹوں کے لائسنس مشکوک ہونا طیاروں اور مسافروں کی سیفٹی اور سکیورٹی کیلئے خطرہ ہے۔

خط میں یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے تھرڈ کنٹری آپریٹرز کو بھی پاکستانی لائسنس یافتہ ملازمین کو فوری کام سے روکنے اور ایاسا کو مطلع کرنے کی تجویز دی ہے۔