ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مندر بنانے کی حمایت کردی

ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مندر بنانے کی حمایت کردی

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ( ن) کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر اور ممبرقومی اسمبلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہندوستان اور کشمیر میں مسلمانوں پر گزشتہ ایک سال سے شدید ظلم ہورہا ہے، ہمارے ملک میں اقلیتوں کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جارہی ہے ، اقلیتوں کا ہمارے ملک میں غیر محفوظ ہونا شرم کی بات ہے ۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے مطالبہ کی حمایت کرتا ہوں،اقلیتی برادری کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، پاکستان میں اقلیتی برادری کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو محفوظ بنائیں،کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت حاصل نہیں۔ یہاں قائداعظم کو کافر اعظم کہا گیا تھا، بانی پاکستان کیخلاف تحریک چلائی گئی۔

رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کا تصور نہیں ہے اسلام تمام مذاہب سے محبت کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو پہلے سے مندر موجود ہیں ان کا تحفظ ہمارا فریضہ ہے اسلام آباد میں جو نئے مندر کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے بیت المال سے تو اس کا تصور بھی موجود نہیں ہے ۔

ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں اپنے رویے سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم مودی جیسے نہیں ہیں اقلیتوں کو آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے خواجہ آصف نے اپنے بیان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق پاکستان کے تمام شہری برابر ہیں،میں نے آئین کے مطابق بات کی ہے،اور اپنی بات میں مذہب کو نہیں شامل کیا ۔

دوسری جانب اسلامی نظریاتی کونسل نے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری گرانٹ سے مندر کی تعمیر کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی، کونسل کے چیئرمین نے شعبہ تحقیق کو جلد از جلد رائے دینے کی ہدایت کی ہے، ستمبر میں کونسل کے اجلاس کے بعد حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔

 وزارت مذہبی امور کی جانب سے مجوزہ اسلام آباد مندر کے قیام لیے حکومتی فنڈ کے سوال پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر لی، اسلامی نظریاتی کونسل سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا حکومت سرکاری فنڈ سے غیر مسلموں کی عبادت گاہ تعمیر کر سکتی ہے یا نہیں جس پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے فوری طور پر کونسل کے شعبہ تحقیق کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس سوال پر جلد از جلد اپنی رائے تشکیل دے تاکہ معاملے کو کونسل کی اعلیٰ باڈی کے آئندہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے علماء اور دینی طبقات کے ماہرین سے درخواست کی ہے کہ وہ اب اس اہم قومی اور دینی مسئلے پر احتجاج کی بجائے کونسل کی رہنمائی کریں