چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بدعنوانی کا بڑا سکینڈل منظر عام پر آگیا

 چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بدعنوانی کا بڑا سکینڈل منظر عام پر آگیا

(عفیفہ نصر) چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بدعنوانی کا ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آگیا، بیورو کے افسر بچوں کے کھانے پینے میں بھی کرپشن کرنے پر باز نہ آئے۔

2019ء کے منظور کردہ ٹینڈر میں مقرر کردہ اچھی کوالٹی والے دودھ کی بجائے کم قیمت دودھ کی سپلائی پر ہونے والی انکوائری سٹی42 کو موصول ہوگئی، انکوائری میں مورد الزام اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن عمر دراز بھٹی کو ٹھہرایا گیا، جنہوں نے اس وقت بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بجٹ ہونے کی حیثیت سے کوالٹی اینڈ کوانٹیٹی کمیٹی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹر آدھا سال غیر معیاری، غیر مقررہ شدہ اور کم قیمت والا دودھ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سٹوریج میں سپلائی کرتا رہا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر دراز بھٹی نے کمیٹی ارکان کو زبردستی دودھ کی سپلائی رکوانے پر رضا مند کیا۔

سٹور افسروں نے رجسٹر میں غیر معیاری اور کم قیمت دودھ کا اندراج بطور معیاری اور مقرر کردہ دودھ کے طور پر کیا، انکوائری میں بے ضابطگی ثابت ہونے کے باوجود عمر دراز بھٹی کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر بجٹ سے ہٹا کر خلاف ضابطہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن بنا دیا گیا۔

دوسری جانب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ترجمان شفیق رتیال کے مطابق یہ ابتدائی تفتیش تھی جس میں کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا،انفارمیشن کی بنیاد پر تفتیش کی گئی تھی جس کا فنانشل معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Sughra Afzal

Content Writer