پی ڈی ایم کاجلسہ فوری روکنےکی استدعا مسترد

 پی ڈی ایم کاجلسہ فوری روکنےکی استدعا مسترد
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے پی ڈی ایم کاجلسہ فوری روکنےکی استدعا مسترد کردی .جسٹس جواد حسن نے درخواستیں نمٹاتے ہوئے نے صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی کو دو دن میں نون لیگ کی جلسہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ کرنےکا حکم دے دیا۔

جسٹس جواد حسن نے 14صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔ تحریری فیصلے کے مطابق شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے این سی او سی کے ایس او پی پی عملدرآمد یقینی بنایا جائے. سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور رہنماء آئین کے تحت پابند ہیں ہے کہ وہ حکومتی ایس بی پر عمل درآمد کریں تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،عدالت حکومتی پالیسی میں مداخلت نہیں کر سکتی،پی ڈی ایم میں شریک سیاسی جماعتیں اور کارکنان آئین کے تحت سماجی فاصلے اور کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی پابند ہیں۔

جسٹس جوادحسن نے ایڈوکیٹ عرفان علی اور حارث بن حسن جنگ کی درخواستوں پر سماعت ،  جسٹس جواد حسن نےکیس کی سماعت کے دوران وکیل ندیم سرور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیا قانونی حق ہے کہ آپ اس جلسے کو روکنے کی درخواست دائر کریں،کیا اپ سیاسی کارکن ہیں؟ کیا آپ کوئی ریلی نکالنے والے ہیں؟

وکیل ندیم سرور نے جواب دیا یہ بنیادی حق کے تحفظ کا معاملہ ہے، ہمارےمحلے کے لوگوں نے بھی جانا ہے، جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ ایک شخص یا وکیل جس کا تعلق نہیں وہ کیسے اس اقدام کو چیلنج کر سکتا ہے؟ جسٹس جواد حسن نے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نےکبھی زندگی میں جلسوں میں شرکت کی ہے؟ ندیم سرور وکیل بولا جلسوں میں نہیں گیامگر میرے علاقے کے لوگ جائیں تو کورونا میرے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔

درخواست گزار کی داد رسی کا ہائیکورٹ کے علاوہ کوئی متبادل فورم موجود نہیں،  پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ کے تحت عوامی مقامات پر جلسے جلسوں کی اجازت انتظامیہ سے لینا ضروری ہے، ایڈوکیٹ حارث بن حسن جنگ نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی جماعتیں صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کی وجہ سے معاشرے کے دیگر افراد کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

وکیل ندیم سرور بولاآئین میں تمام شہریوں کو قانون کی پاسداری کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، سیاسی جماعتیں بھی آئین و قانون کی پاسداری کرنے کی پابند ہیں، جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ عبدلحفیظ پیرزادہ جنہوں نے آئین پاکستان لکھا ان کی روح کتنی خوش ہو رہی ہو گی کہ نوجوان وکلاء نے آئین کے وہ آرٹیکل پڑھے جنہیں آج تک کسی نے نہیں پڑھا۔

سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 13 دسمبر کے جلسے کیلئے ن لیگ نے جلسے کی اجازت مانگی تھی، جسٹس جواد حسن نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت دی؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا ضلعی انتظامیہ نے ن لیگ کا موقف سن کر معاملہ صوبائی انٹیلیجنس کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔